خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 177 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 177

خطبات طاہر جلد ۲ 177 خطبه جمعه ۲۵ مارچ ۱۹۸۳ء دوسری شرط یہ ہوگی کہ وہ لازماً دیانتدار آدمی کو تلاش کرے گا کیونکہ اگر بد دیانت کے پاس روپیہ چلا جائے اور وہ حساب کتاب میں ہی اس کے روپے کو ختم کر کے رکھ دے تو پھر تو اس بیچارے کے لئے کوئی چارہ نہیں ہو سکتا، کہیں بھی اس کی پیش نہیں جا سکتی کیونکہ ہوشیار انسان جو بد دیانت بھی ہو وہ تجارتی حسابات کے ہیر پھیر میں سارے روپیہ کو ضائع کیا ہوا دکھا سکتا ہے۔ تو جہاں تک اسلامی مالی نظام کا تعلق ہے وہ پیپ ہی نہیں سکتا جب تک اس کے ساتھ ساتھ دیانتداری بھی پنپ نہ رہی ہو اور دیانتداری اگر ساتھ پینے تو اس کی قیمت اسلامی نظام میں پڑتی ہے دوسرے مالی نظام میں نہیں پڑتی۔ یہاں شرط یہ ہوگی کہ دیانتدار آدمی جس کی ساکھ دنیا میں قائم ہو اس کو تلاش کیا جائے اور اس کے پاس اپنا روپیہ لگایا جائے اور پھر یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ ایسے دیانتدار کے پاس روپیہ لگایا جائے جس کے اندر صلاحیتیں بھی موجود ہوں ۔ یا پھر اشتراک کیا جائے ۔ اگر تمہارے پاس تھوڑا سرمایہ ہے تو تم دوسروں کے ساتھ مل کر سرمائے کی ایک مشترک کمپنی بنا لو اور آپس میں مل جل کر فیصلہ کر کے معاملات کو اپنے میں سے کسی قابل آدمی کے سپرد کر دو لیکن شرط یہ ہے کہ وہ دیانتدار بھی ہو۔ یہ اس قسم کا مالی نظام ہے جو واقعتہ اس سے پہلے تاریخ میں پنپ چکا ہے۔ اکثر لوگ جانتے ہیں کہ حضرت امام ابو حنیفہ جیسے عظیم فقیہہ اور مدبر لوگ اپنے وقت کے بہترین تاجروں میں بھی شمار ہوتے تھے۔ صرف امام ابو حنیفہ ہی نہیں اور بھی بہت سے مسلمان بزرگ ایسے گزرے ہیں جن کو قرآنی مالی نظام نے کچھ اس طرح فائدہ پہنچایا کہ ان کی دیانت اور ذہنی صلاحیتوں کی قیمت ڈال دی۔ نتیجہ لوگ بکثرت ان کے پاس اپنا روپیہ لے کر آیا کرتے تھے اور ان کے سپرد کر کے چلے جاتے تھے۔ وہ کہتے تھے ہمیں تم پر کامل اعتماد ہے اگر نقصان ہوا تو تم نقصان دکھاؤ گے اور اگر نفع ہوا تو نفع دکھاؤ گے اس لئے ہم اس کا روبار میں شریک ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ ایسے اموال کے استعمال کے مواقع نہیں ملتے تھے تو رد کر دیا کرتے تھے۔ تاریخ میں ایسے واقعات ملتے ہیں کہ لوگ اپنی پوٹلیاں نام لکھ کر پھینک کر چلے جایا کرتے تھے اور ان کو کامل یقین ہوتا تھا کہ یہ روپیہ بڑھے گا۔ لیکن یہ یقین صرف دیانت دار سوسائٹی میں پنپ سکتا ہے اور دیانتدار سوسائٹی کے بغیر اسلامی نظام چل ہی نہیں سکتا۔ اگر ساری دنیا کی طاقتیں مل کر یہ کوشش کریں کہ غیر اسلامی معاشرہ میں اسلامی نظام معیشت چلا کر دکھاویں تو یہ سعی لاحاصل ہے۔ اسلام اس نظام کو چلانے سے پہلے وہ زمین تیار کرتا ہے جو زرخیز