خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 163 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 163

خطبات طاہر جلد ۲ 163 خطبه جمعه ۱۸ مارچ ۱۹۸۳ء تو پھر بیوت الحمد کے مکانوں کے علاوہ انفرادی مکانات کی ایک بڑی تعداد ایسی مل جائے گی جس کے نتیجے میں بڑی کمپنیاں کام کو ہاتھ میں لینے پر آمادہ ہوسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ میں احمدی انجینئر ز کو دعوت عام دیتا ہوں کہ وہ جماعت احمدیہ کی خصوصی ضروریات اور ربوہ کے ماحول اور معاشرے اور اس کے مہمان نوازی کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر نسبتاً ستے، سادہ مگر مضبوط اور آرام دہ گھر تجویز کریں۔ اگر انہیں Experimental یعنی تجرباتی ضروریات کے لئے رقم اور پلاٹ کی ضرورت ہو تو جماعت وہ بھی مہیا کرنے کے لئے تیار ہے۔ یہاں ربوہ میں انشاء اللہ ان کو یہ سہولتیں دی جائیں گی وہ تجربہ چھوٹا مکان بنا کر دکھا ئیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جو ذہنی جلا عطا فرمائی ہے اس کو خدمت دین میں استعمال کریں۔ پس جہاں تک مکانات کا تعلق ہے، میں سمجھتا ہوں آئندہ چند مہینے میں ہم ذہنی طور پر اس بات کی تیاری کر لیں گے کہ کس قسم کے مکان بننے چاہئیں اور پھر یہ کہ سستے سے سستے مکان کس طریق پر بنائے جا سکتے ہیں اور جہاں تک اپنے Resources یعنی ذرائع آمد کو استعمال کر کے اور ان کو سمیٹ کر نئے مکانوں کے لئے سرمایہ مہیا کرنے کا تعلق ہے خالی پلاٹوں کے تمام مالکان ابھی سے ان باتوں پر غور شروع کر دیں اور جہاں تک ممکن ہو سرمایہ مہیا کرنے کی کوشش کریں کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جماعت کی ضروریات اب دوستوں کی ذاتی ضروریات کا انتظار نہیں کریں گی ۔ سلسلہ کے کاموں کو بہر حال ترجیح دی جائے گی ۔ ہر احمدی اس عہد میں داخل ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا اس لئے قانونی طور پر وہ حق بھی رکھتا ہو تو بھی سلسلہ کے مفاد کو ترجیح دے کیونکہ وہ سب کچھ سلسلہ کو دے چکا ہے اور جب بھی سلسلہ کا مفاد ہو سلسلہ یہ توقع رکھے گا کہ وہ اپنے ذاتی مفاد کو قربان کر دے۔ میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ اس روح کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی بدمزگی کے بغیر اللہ کے فضل سے سلسلہ کے کام جاری رہیں گے۔ دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ جب سے مذہب کا آغاز ہوا ہے اہل مذہب کی ایک ایسی تقدیر ہے جسے آپ کبھی بھی تبدیل ہوتا نہیں دیکھیں گے۔ میری مراد مذاہب کے آغاز سے بھی ہے اور مذاہب کے ان ادوار سے بھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے احیاء نو کی خاطر ان میں نئے امام بھیجے ۔ جب بھی یہ واقعات ہوئے ہیں اور جب بھی خدا کی طرف سے آنے والے نے آواز بلند کی ہے خواہ