خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 154 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 154

خطبات طاہر جلد ۲ 154 خطبه جمعه ۱۱ مارچ ۱۹۸۳ء صلى الله سیکھنا بہت بعد کی بات ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہے کہ جی ہم انتظار کرتے ہیں کہ پہلے تبلیغی پاکٹ بک چھپ جائے ، پہلے فلاں دلیل ہمیں مل جائے علم سیکھ لیں پھر خدا کی طرف بلائیں گے۔ تو ان بے چاروں کو علم نہیں کہ قرآن کریم نے تو اس بات سے ان کو شروع ہی میں آزاد کر دیا ہے فرمایا ہے کہ اپنے رب کو پالو اور اس کو پانے کے آثار اپنے اندر ظاہر کر دو پھر تم گویا پوری طرح مسلح ہو چکے ہو ان تمام ہتھیاروں سے جو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے ضروری ہیں۔ زاد راہ تو تمہیں مل گیا ہاں اس راہ میں آگے چل کر جو ضرورتیں ہوں گی وہ خدا تعالیٰ خود پوری کرتا چلا جائے گا اور یہ امر واقعہ ہے کہ خدا کی راہ میں تقوی سے لیس ہو کر عمل صالح سے مزین ہونے کے بعد جن لوگوں نے جہاد شروع کیا وہ علم میں کبھی پیچھے نہیں رہے بلکہ خدا خود ان کو علم عطا فرماتا ہے اور علم صرف ظاہری طور پر کتابیں پڑھنے سے نہیں آتا ۔ اصل علم وہ ہے جو خدا عطا فرماتا ہے۔ چنانچہ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ حضور اکرم ہے جو دعوت الی اللہ دینے والوں میں سب سے ارفع و اعلیٰ مقام رکھتے تھے ظاہری طور پر ان پڑھ تھے۔ اگر تبلیغی جہاد کے لئے ظاہری علم اتناہی ضروری تھا تو پھر تو حضور اکرم ﷺ کو دعوت الی اللہ کا کام شروع کرنا ہی نہیں چاہئے تھا۔ پھر تو آپ پہلے تمام دنیا میں پھرتے اور اس وقت جو یو نیورسٹیاں موجود تھیں ان میں تعلیم پاتے اور پھر اس مقام پر کھڑے ہوتے کہ اب میں تمہیں خدا کی طرف بلاتا ہوں ۔ ہمارے آقاسید ولد آدم کو کیوں ظاہری علم سے آراستہ نہیں کیا گیا؟ اس میں ایک بہت بڑی حکمت تھی اور وہ یہ کہ پھر کبھی قیامت تک کوئی انسان یہ نہ کہہ سکے کہ میں کس طرح داعی الی اللہ بن جاؤں مجھے تو ظاہری تعلیم حاصل نہیں ۔ فرمایا جو سب دنیا کو علم سکھانے والا بنا اس نے دعوت الی اللہ کے سفر کا آغاز بغیر ظاہری تعلیم کے کیا تھا۔ صرف ایک صفت اس میں تھی کہ وہ اپنے رب سے پیار کرتا تھا اور اس کا رب اس سے پیار کرتا تھا۔ اس کے نتیجہ میں سارے علوم کے چشمے اس پر کھولے گئے حالانکہ ظاہری علم کے زیور سے وہ آراستہ نہیں تھا۔ پس ایک یہ تعلیم بھی ہمیں اس میں مل گئی کہ یہ انتظار نہ کرو کہ تمہیں دنیاوی طور پر وہ علوم حاصل ہو جائیں جو دنیا کی نظر میں علوم کہلاتے ہیں بلکہ اگر گورے چٹے ان پڑھ بھی ہو اور خدا سے محبت رکھتے ہو اور خدا کو پا لیتے ہو اور محسوس کرتے ہو کہ ایک رفیق مجھے مل چکا ہے جو ہمیشہ کا رفیق ہے جو سب رفیقوں سے بڑھ کر ہے تو پھر تم اس لائق ہو کہ دنیا کو اس خدا کی طرف بلاؤ اس سے زیادہ تمہیں کوئی رہے تو اس سے