خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 899
خطبات طاہر جلد 17 899 خطبہ جمعہ 25 دسمبر 1998ء جسے آگے آگے سپاہی لے کے چلتا ہے تا کہ تیروں اور نیزوں کی بوچھاڑ ڈھال پر رک جائے اور اسے گزند نہ پہنچے اسی طرح روزہ انسان کے لئے ڈھال بن جاتا ہے۔ پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ روایت ہے کہ نبی اکرم صلی السلام نے فرمایا کہ: روزہ ایک ڈھال اور آگ سے بچانے والا ایک حصن حصین ہے ۔“ دو 66 (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة، مسند ابي هريرة ، حدیث نمبر : 9225) ایک ایسا قلعہ ہے جسے مضبوط کر دیا گیا اس میں شیاطین کو داخل ہونے کی اجازت ہی نہ ہو۔ تو رمضان میں روزے ے رکھنا ایک حصن حصین تعمیر کرنے کے مترادف ہے۔ اپنے لئے یہ قلعے تعمیر کر لوجن کو ہر طرح سے برجوں سے محفوظ کر دیا گیا ہو اور شیطان کو ان قلعوں میں داخل ہونے کی اجازت نہ ہو۔ ایک حدیث جو ہمیشہ آپ کے سامنے میں رکھتا ہوں اور یہ وہ حدیث رکھتا ہوں اور یہ وہ حدیثیں ہیں جن میں سے اکثر آپ کے سامنے ہر رمضان میں رکھی جاتی ہیں لیکن ہر رمضان میں لازم ہے کہ ان کو دہرایا جائے تا کہ اگر سال پہلے کی بات کچھ لوگ بھول چکے ہوں تو ان کو یاد آ جائے اور نئے بچے جو جوان ہو کے اب شامل ہو رہے ہیں اور نئے ہونے والے احمدی جواب ان خطبات سے پہلے سے بڑھ کر استفادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ سب آنحضور صلی السلام کی اس نصیحت سے استفادہ کر سکیں۔ حضور اکرم صل الا السلام نے ایک موقع پر یہ ہدایت دی تھی کہ جو میری باتیں سنتا ہے، جو حاضر ہے میری مجلس میں وہ غائب کو یہ پہنچادے۔ (مسند احمد بن حنبل، مسند اہل بیت ، مسند عبد الله بن العباس ، حدیث نمبر : 2036) تو اللہ کی شان ہے کہ جماعت احمدیہ کو اب ٹیلی ویژن کے ذریعہ یہ توفیق ملی ہے جو دنیا میں کسی مسلمان بڑی سے بڑی حکومت کو بھی توفیق نہیں ملی کہ دنیا کے کناروں تک حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اسلم کا پیغام پہنچانے کی توفیق نصیب ہو رہی ہے اور کثرت سے اسی کی خاطر خدا کے بندے اکٹھے ہوتے ہیں اور غور سے ان سب باتوں کو سنتے ہیں اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ بڑی بھاری تعداد ان میں سے ان نصیحتوں پر عمل پیرا ہوگی۔ یہ جو مرکزی بات ہے یہ بتانی ضروری ہے سب کے لئے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صل الله السلام نے فرمایا : رض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انسان کے سب کام اس کے اپنے لئے ہیں سوائے روزہ کے، یقیناً وہ میرے لئے ہے اور میں اس کی جزا ہوں ۔“