خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 868 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 868

خطبات طاہر جلد 17 868 خطبہ جمعہ 11 دسمبر 1998ء جماعت کی تبلیغ میں رکاوٹ پیدا ہو تو ایسی صورت میں مخفی طور پر مسجدیں بنانا یہ ممکن ہے اور بنانی چاہئیں۔ اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ اللہ اس طریق پر انشاء اللہ تعالیٰ پاکستان کی مشکلات بھی دور فرمادے گا اور فرمانے لگا ہے، فرما رہا ہے۔ ایسے آثار نظر آ رہے ہیں جن سے لگتا ہے کہ اللہ تعالی کی پکڑ اب دشمنوں کے اوپر تلوار کی طرح لٹک رہی ہے اور یہ تلواریں جگہ جگہ گر بھی رہی ہیں مگر ہوش نہیں آرہی ۔ اگر قوم کو ہوش نہ آئے ، خدا کی طرف سے کھٹکھٹانے دروازے ے والی چیزیں بار بار دلوں کے دروازے کھٹکھٹا رہی ہوں، آفات دلوں کے کھٹکھٹا رہی ہوں اور ان کو اور ان کو ہوش نہ آئے تو پھر آخری تقدیر جو ہے وہ پھر کلیہ منہدم کرد به منہدم کر دیا کرتی ہے، اُن کی ساری تدبیروں کو منہدم کر دیا کرتی ہے، ان کی ساری تعمیروں کو منہدم کر دیتی ہے۔ جو خدا کا گھر منہدم کرنے میں فخر کریں ان کے گھر باقی کیسے رہ سکتے ہیں۔ اللہ پکڑ میں دھیما ضرور ہے مگر أَمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتين - (الاعراف: 184) میں مہلت تو ان کو دیتا ہوں مگر میری پکڑ بہت سخت ہے۔ جب بھی ان کے پیمانے بھریں گے اور مجھے تو اب بھرے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں تو پھر وہ جو خدا کے گھر کے دشمن تھے ، خدا کے گھر مٹانے کے درپے تھے ان کے گھر ضرور مٹائے جائیں گے اور مٹائے جا بھی رہے ہیں اور ان کو سمجھ نہیں آرہی ۔ تو اس وجہ سے میں ہمیشہ پاکستان کے لئے خود بھی دعا کرتا ہوں اور آپ کو بھی یہ مضمون چل پڑا ہے تو دعا کی طرف متوجہ کر رہا ہوں کہ آنحضرت صلی الا السلام کی پیروی میں جب کہ دشمن نے ظلم کی حد کر دی تھی یا حدیں پھلانگ چکا تھا حضور اکرم صلی الہ السلام نے یہ دعا کی: اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (الجامع الشعب الايمان، حدیث نمبر : 1375) اے میرے اللہ ! اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ یہ جانتے نہیں ۔ یہ جو شرط ہے نہیں جانتے یہ شرط قبولیت دعا کے لئے ضروری ہے۔ جس طرح قوم نے ظلم کئے تھے ان کے لئے رسول اللہ صلی الا الہ سلم اللہ سے ہدایت مانگ کیسے سکتے تھے ، سوائے اس عذر کے کہ إِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ کہ وہ جانتے نہیں مگر جب بھی میں یہ دعا کرتا ہوں میرے دل پہ یہ بوجھ پڑتا ہے کہ یہ لوگ تو جانتے ہیں اور جان بوجھ کے ایسا کر رہے ہیں۔ اچھا بھلا پتا ہے کہ یہ مظلوم ہیں ان پر ظلم کرنا جائز نہیں ہے اس کے باوجود ظلم کرتے چلے جاتے ہیں۔