خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 866 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 866

خطبات طاہر جلد 17 866 خطبہ جمعہ 11 دسمبر 1998ء ادا کرنے والا تھا۔ یہاں آنْعُبہ میں اگر چہ تمام کا لفظ استعمال استعمال نہیں ہوا مگر مضمون میں آنعیہ سے مراد ہر نعمت کا اور نعمت کے اندر اس کے بڑے ہونے کا بھی ذکر موجود ہے۔ یہ عربی محاورہ ہے کیونکہ اللہ کی نعمتیں تو ابراہیم پر تھیں ہی بے شمار - اجتبہ جب فرما دیا تو اس سے بڑی نعمت اور کیا ہوسکتی ہے۔ تو یہ ساری باتیں اس مضمون میں داخل ہیں ۔ نعمتوں کا شکر ادا کرنا ہم پر فرض ہے اور ان شکروں کو ادا کرتے کرتے تھکنا نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں جیسا کہ میں نے گزشتہ دفعہ بھی ہندوستان کو نصیحت کی تھی ایک بات یاد رکھیں کہ ان کو مالی قربانی کی عادت ڈال دیں۔ جتنے نئے آنے والے ہیں ان کو لازما مالی قربانی کی عادت ڈال دینی چاہئے اور یہ پیغام تو سب دُنیا کے لئے ہے۔ ہر ایک شخص جس کی اولاد کو خدا تعالیٰ کوئی نوکری دیتا ہے یا تجارت میں کامیابی عطا فرماتا ہے ان سب کا فرض ہے کہ وہ خدا کی راہ میں اس کو اور خرچ کریں کیونکہ اس سے ان کا مال بڑھے گا ، کم نہیں ہوگا۔ ابھی کل ہی کی ملاقاتوں میں ایک خاتون تشریف لائی تھیں اپنی بیٹی کو ساتھ لے کے اور ان کی طرف سے لفافہ مجھے دیا کہ تمام چندے ادا کرنے کے بعد پیچھے جتنی تنخواہ اس بچی کی بنتی تھی ، پہلی تنخواہ وہ ساری کی ساری یہ پیش کر رہی ہے اس کو خدا کی راہ میں استعمال کر لیں اور میں نے یہ دستور بنا رکھا ہے کہ جو بھی پہلی تنخواہ دیتا ہے اس طرح اس کو مسجد کے لئے یا مساجد کی تعمیر میں استعمال کیا جائے۔ چنانچہ یہ بھی ایک بڑی مذ ہے جو بنتی چلی جارہی ! ہے اور اس کے نتیجہ میں ہم ایسے علاقوں میں مسجدیں بناتے ہیں جہاں غربت کی وجہ سے وہ لوگ توفیق نہیں پاتے کہ مسجدیں بنا سکیں۔ تو یہ بھی ایک شکر کا طریقہ ہے اور جو مساجد احمدی بنائیں گے۔ اب دیکھیں نا! شکر کتنا لا متناہی چیز ہے۔ ان ساری مساجد میں اللہ کا شکر ادا کیا جائے گا اور غریب علاقوں میں اگر مسجد بنے تو اور بھی زیادہ ممنون ہوتے ہیں ۔ امیر تو یہ سوچ لیتے ہیں کہ ہمیں توفیق ملی تھی ہم نے مسجد بنالی ، بعضوں کو بے وقوفی سے یہ بھی شاید خیال آتا ہو کہ ہم نے بڑا کمال کر دیا ہے یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اللہ پہ احسان کیا ہے مگر فخر سے پھولے پھرتے ہیں کہ ہم نے کمال کر دیا ہے مسجد بنادی مگر غریب نہیں یہ بات کرتا ، سوچتا نہیں یہ بات، اس کو تو پتا ہے کہ مجھ میں توفیق ہی نہیں تھی ۔ پس ایسے لوگ جو اپنی آمد خواہ کسی قسم کی آمد شروع ہوئی ہو ، تجارت کی ہو، انڈسٹری کی ہو یا تنخواہوں وغیرہ کی ہو وہ خدا کے حصہ کے چندے نکالنے کے بعد بقیہ رقم جو بچتی ہے وہ پہلی رقم پہلے مہینہ کی پوری کی پوری ادا