خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 856
خطبات طاہر جلد 17 856 خطبہ جمعہ 11 دسمبر 1998ء حنِيفًا : اس حد تک اللہ کی طرف جھکاؤ کہ اگر ایسے جھکاؤ والے کے قدم ڈگمگا ئیں بھی تو خدا ہی کی طرف گرے گا یعنی خدا سے ہٹ کر دوسری طرف گرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تو قدم ڈگمگانے کا محاورہ ہے مراد یہ ہے کہ اس جھکاؤ کے ساتھ ہمیشہ رہا کہ جب بھی پناہ کی ضرورت پڑی، جب بھی سہارا ڈھونڈ نا ہوا اللہ ہی کی پناہ لی ، اللہ ہی کا سہارا ڈھونڈا ۔ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ : اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھا۔ اب مشرک کی نفی اس سے بہتر الفاظ میں نہیں ہو سکتی ۔ جو الفاظ اس سے پہلے ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق استعمال ہوئے ہیں اس میں ہر قسم کے شرک کی نفی ہے۔ اس پر اگر آپ غور کریں تو حیران ہوں گے کہ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ میں ہر طرح کے شرک کی نفی شامل ہو گئی ہے اور ابراہیم کو ایک موحد بندے کے طور پر پیش کیا۔ اس کے نتیجے میں اس پر شکر واجب تھا اور یہی اس سے اگلی آیت بیان فرما رہی ہے ۔ شَاكِراً لا نعبہ نعمتیں تو اس پر بے شمار تھیں اللہ کی ، وہ ان سب نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا تھا۔ اب جتنی بڑی نعمتوں کا ذکر گزرا ہے اس کا شکر بھی سوچیں کہ کتنا وسیع شکر ہو گا ۔ کسی گہرائی سے شکر ادا کیا گیا ہو گا اور کس وسعت کے ساتھ ہر نعمت کا تصور کر کے اس کا شکر ادا کرنا گویا کہ ساری زندگی اسی میں صرف ہو گئی۔ اجته : اللہ نے اسے چن لیا۔ شکر نعمت کا حق ادا کئے بغیر چنے کا سوال نہیں اور چنے بغیر شکر نعمت کا حق ادا نہیں ہو سکتا ۔ یہ دونوں باتیں لازم و ملزوم ہیں ۔ اللہ تعالیٰ چنتا ہی ان بندوں کو ہے جو نعمت کا شکر ادا کرنے کا حق ادا کرتے ہیں اور جو حق ادا کرتے ہیں ان کو مزید چن لیتا ہے تو گویا ایک لا متناہی سلسلہ اجتبی کا ہے جو چلتا چلا جاتا ہے اور وہ راستہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ جتنا اللہ کا احسان بڑھتا چلا جائے اتنا شکر بڑھتا چلا جائے اسی قدر اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا اجتبی کا فعل صادر ہوتا چلا جائے گا اُس بندے کو مزید نیک ترقیوں اور بلندیوں کے لئے چن لے گا۔ چنانچہ اسی آیت کے آخر پر ہے وَهَدْهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ : اس کو ایک سیدھی راہ کی طرف ہدایت دی ہے۔ حضرت ابراہیم السلام تو صراط مستقیم پر تھے ہی۔ یہاں اس مضمون کے سیاق و سباق سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ ایک جاری صراط مستقیم کا سلسلہ تھا جو بھی ختم نہیں ہو سکتا کیونکہ صِرَاطٍ مُسْتَقِيم اس رستہ کو کہتے ہیں جو علیہ بالکل سیدھا ہو اور سیدھا رستہ کبھی بھی کہیں ختم نہیں ہو سکتا ۔ ہر چیز جو ختم ہوتی ہے اس کے لئے ایک دائرہ کی ضرورت ہے، خم کی ضرورت ہے اگر کسی چیز میں خم نہ ہو تو وہ لامتناہی ہو گی تو الی صِرَاط