خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 853 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 853

خطبات طاہر جلد 17 853 خطبہ جمعہ 4 دسمبر 1998ء ابھی اتنی بوسیدگی نہیں آئی کہ آپ اسے پھینک دیں یا اسے پہنتے وقت شرم محسوس کریں۔ پہنا ہوا کپڑا آپ استعمال کریں تو کوئی حرج نہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے بھی ایک دفعہ حضرت نواب صاحب کا پہنا ہوا کوٹ خود استعمال کر لیا تھا کیونکہ آپ نے اس نیت سے بھیجا تھا کہ کسی ضرورت مند کو جو اس کو پہن کر شرم محسوس نہ کرے یا ضرورت مند کو دے دیا جائے۔ چونکہ خود وہ سمجھتے تھے کہ میرے پہننے کے لائق نہیں رہا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک عظیم سبق سکھایا کہ وہ کوٹ اپنے لئے لے لیا اور خود پہنا جس کا مطلب یہ تھا کہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کا بھی پردہ رکھ لیا، یہ کوٹ ابھی ایسارڈی نہیں ہوا کہ کوئی بہن نہ سکے، میں پہن رہا ہوں اور پھر مجھے اب یاد نہیں وہ کوٹ کسی کو دیا تو پہننے کے بعد دیا ہوگا تا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ ایک رڈی اور بیکار چیز دی گئی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تو پھٹا پرانا بھی ایک نعمت عظمیٰ ہوا کرتا تھا۔ (سیرت المہدی جلد اول از حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے، روایت نمبر : 333) تو یہ مضمون ہے جو اس کو سمجھ لیں اپنے کپڑے اس وقت لوگوں کو دیا کریں جب وہ ابھی آپ کے کام کے ہوں اور نیا دے سکیں تو نیا بھی دیں اور نیا خرید کر بھی دے سکتے ہوں تو نیا خرید کے بھی تحفے دیں۔ تو اپنے تحفوں میں اپنی پسند کو ملحوظ رکھیں جو چیز پسند ہو وہ دیا کریں۔ کھانا پسند ہو جو پسند کھانا ہے وہ دیا کریں، جو کپڑا پسند ہے وہ پسند والا کپڑا دیا کریں۔ فرمایا یہ کیوں ضروری ہے: مومن ہونے کے لئے ضروری ہے۔“ 66 اگر تم سچے مومن ہو، ایمان لاتے ہو اللہ پر اور ایمان کا ایک معنی ہے اس پر توکل اور انحصار کرنا ، اس کی حفاظت میں آجانا تو پھر یہ طریق اختیار کرو اور سچے مومن بن کر لوگوں کو اپنی پسند کی چیزیں دیا کرو۔ پھر فرمایا: جو تیرے پڑوس میں بستا ہے اس سے اچھے پڑوسیوں والا سلوک کرو تو سچے اور حقیقی مسلم کہلا سکو گے۔“ یعنی پڑوسیوں کو کسی قسم کا دکھ نہ دو انہیں تمہاری طرف سے کوئی تکلیف نہ پہنچے بلکہ امن میں ہوں ۔ مسلم کا معنی ہے جس سے ایک انسان امن میں ہو۔ تو پڑوسی تم سے امن میں ہوں تو پھر سب دنیا تم سے امن میں ہے اگر پڑوسی ہی امن میں نہیں تو دنیا میں کوئی بھی تم سے امن میں نہیں ہوگا اور آخر پہ یہ کہ: