خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 842
خطبات طاہر جلد 17 842 خطبہ جمعہ 4 دسمبر 1998ء شکر کے تعلق میں جو احادیث میں نے آج کے لئے چنی ہیں ان میں پہلی حدیث سنن النسائی كِتَابُ الشَّهْو سے لی گئی ہے۔ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ كَانَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ ۔ ( اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ) حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ یہ کام اپنی نماز میں یہ دعا کیا کرتے تھے ، اے اللہ میں ہر معاملہ میں تجھ سے ثابت قدمی کی توفیق مانگتا ہوں ۔“ 66 میرے خیال میں 'ہر معاملہ ترجمہ کرنے والے نے یہ ترجمہ کیا ہے ۔ اصل عبارت میں دیکھتے ہیں کیا ہے ۔ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْر - امر کا ایک ترجمہ ” ہر معاملہ بھی ہو سکتا ہے اس لئے ترجمہ غلط نہ ہونے کے باوجود اس محل پر یہ ترجمہ درست نہیں ہے ۔ یہاں الأَمر سے مراد امر الہی ہے اور الْأَمْرِ سے مراد شریعت کاملہ ہے ۔ پس آنحضرت صلی السلام کی دعا کبھی گہری حکمت سے خالی نہیں ہوا کرتی تھی اس لئے آپ صلی الا السلام یہ دعا مانگتے تھے کہ اے اللہ! میں تیرے امر میں ثبات دکھاؤں، جو ا مر بھی تو مجھے دے اور جو امر شریعت میں دیا گیا ہے اس پر مجھے ثبات قدم عطا فرما۔ پھر ہے : وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ 66 اور ہدایت کی بات پر عزیمت عطا کر ، عزم عطا فرما۔ جو امور شریعت ہیں ان کے علاوہ بھی رشد کی باتیں ہوا کرتی ہیں اور ہر قسم کی ہدایت کی بات خواہ شریعت میں واضح طور پر مذکور ہو یا نہ ہو اس میں مجھے صرف کرنے کی توفیق نہیں بلکہ عزم صمیم عطا کر کہ میں نیکی کی بات کو ایسے پکڑلوں کہ پھر اسے کبھی نہ چھوڑوں اور میں تجھ سے تیری نعمتوں کے شکر اور احسن رنگ میں تیری عبادت بجالانے کی توفیق مانگتا ہوں ۔ وَأَسْأَلُكَ شُكُرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ “ تیری نعمت کا شکر ادا کرنے کی توفیق مانگتا ہوں۔ جس کے ساتھ ہی مُحُسْنَ عِبَادَتِكَ فرما دیا یعنی نعمت کا اصل شکر تو عبادت کے ذریعہ ہوا کرتا ہے۔ ساری زندگی میں اللہ تعالیٰ نے جو بھی احسانات انسان پر فرمائے ہیں اس کا خلاصہ یوں نکالا إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة : 5) كه ان احسانات کے بدلے میں آخری شکر کا درجہ یہ ہے کہ ہم تیری عبادت کریں اور شکر کا پہلا درجہ بھی یہی ہے