خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 811 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 811

خطبات طاہر جلد 17 811 خطبہ جمعہ 20 نومبر 1998ء لمسه ملے گا اور جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انتظار میں کھڑے ہوتے تھے تو حضرت خلیفۃ امسیح الاول اس وقت اس طرح نہیں کھڑے رے ہوتے تھے جیسے بعد میں خلیفہ اسح فته لمسیح الاول بن کر کھڑے ہوئے ہیں بلکہ عام لوگوں میں سے ایک آپ بھی ہوا کرتے تھے۔ سب کا رخ اس طرف ہوا کرتا تھا جدھر سے مسیح موعود علیہ السلام نے نکلنا ہے اور جہاں تک آپ کے بیٹھنے کا انداز تھا، آپ حتی المقدور جوتیوں میں بیٹھا کرتے تھے اور بہت سے لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قرب میں تھے وہ بہت نمایاں دکھائی دیا کرتے تھے اسی لئے کہ آپ کو کوئی غیر معمولی شہرت نہ حاصل ہو جائے ۔ آپ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت سے الگ نہیں رہ سکتے تھے مگر اکثر جوتیوں میں بیٹھا کرتے تھے اور یہ واقعہ آپ نے سنا ہوگا کئی دفعہ کہ ایک پٹھان جنہوں نے اس حالت میں حضرت خلیفہ اصبح الاول" کو دیکھا ہوا تھا جب وہ قادیان پہنچے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وصال کے بعد تو باغ میں جہاں حضرت خلیفۃ المسیح الاول بیعت لے رہے تھے اس نے دیکھا تو حیران رہ گیا۔ اس کے منہ سے ایک بہت پیارا کلمہ نکلا جو ہمیشہ جماعت کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا ۔ اس نے کہا کہ میں نے دیکھا ، میں نے کہا اوہو یہ تو جوتیوں سے خلافت لے گیا یعنی مسیح موعود کی جوتیوں سے اس نے خلافت اٹھالی مگر نیت نہیں تھی اس لئے جو تیوں میں نہیں بیٹھتے تھے کہ خلافت اٹھا لیں وہاں سے ۔ جوتیوں میں بیٹھتے تھے تو مسیح موعود کے مقابل پر اپنا مقام یہ سمجھتے تھے اور اسی وقت آگے گئے ہیں جب مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود بلا یا کرتے تھے۔ بسا اوقات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بعض علماء کی ضرورت پڑتی تھی اور حضرت لمنه خلیفة المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت بلند پایہ، بہت چوٹی کے عالم تھے تو اس وقت آپ بلا لیا کرتے تھے اور اپنے پاس بٹھا لیا کرتے تھے مگر آپ کا خود دستور نہیں تھا۔ (انوار العلوم جلد 25 صفحہ 506 ،507) یہ جو سلسلہ ہے یہ میں نے عرض کیا تھا یہ ہمیشہ جاری رہتا ہے اور لوگ یاد رکھیں اگر انہوں نے کچھ حاصل کرنا ہے تو حاصل کرنے کی نیت سے ان کو کچھ نہیں ملے گا ۔ اگر خلوت پسند کریں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آغاز میں دکھائی دیتی ہے، یعنی وہ نبوت والی خلوت تو ان کو نصیب ہو ہی نہیں سکتی مگر اس سے مشابہ ، اس کی غلامی میں ایک خلوت کا جذبہ ان کے دل میں ہونا