خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 809
خطبات طاہر جلد 17 809 خطبہ جمعہ 20 نومبر 1998ء کے نتیجہ میں فتوحات نصیب ہوا کرتی ہیں۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہاں کہہ رہے ہیں میں نہیں جانتا، تو محض یہ مراد ہے ورنہ خدا کی محبت اور رسول صلی الا السلام کی محبت جس کے نتیجہ میں یہ سب کچھ عطا ہوا اس کا تو آپ کو علم تھا بہر حال ۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوان یار ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ : 141) وو مجھے ملکوں سے کیا غرض ہے، مجھے کوئی دلچسپی نہیں ، میرا ملک۔ میرا ملک ہے سب سے جدا ۔ اب اس کے باوجود جماعت احمد یہ کوملکوں سے کیوں غرض ہے؟ یہ میں آپ کو سمجھا دینا چاہتا ہوں ۔ ہمیں ان ملکوں سے دلچسپی ہے جن میں احمدیت پھیلے تو ایک جدا ملک بن جائے ۔ وہ ملک نہ رہیں جن کو دُنیا ملک کہا کرتی 66 ہے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہتے ہیں : ” میرا ملک ہے سب سے جُدا ۔“ تو جتنے ملکوں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے والے بنتے چلے جارہے تھے ان کا ملک بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرح ایک جدا ملک بنتا چلا جا رہا تھا۔ تو بعض لوگ شاید تعجب کریں کہ ہم جو باتیں کرتے ہیں ایک سو ساٹھ ملکوں میں پھیل گئے ، اتنے ملکوں میں پھیل گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کی مخالفت تو نہیں ہو رہی کہیں ، نعوذبالله من ذلك ، ہرگز نہیں ۔ اس لئے کر رہے ہیں تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جدا ملک ساری دنیا پہ چھا جائے ۔ مشرق کے ایک کنارے سے مغرب کے دوسرے کنارے تک اور پھر مشرق تک ایک ہی ملک ہو جو سب سے جدا ہو جو اللہ کا ملک ہے اور وہی تاج مانگتے ہیں جو رضوان یار کا تاج ہے۔ مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوان یار ۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ توفیق حاصل کر لیں یعنی جماعت احمد یہ کوشش کے ذریعہ ، محنت کے ذریعہ، خلوص کے ذریعہ مسلسل قربانی کے ذریعہ، ان تھک محنتوں سے اور صبر کے ساتھ یہ مقام حاصل کر لے کہ سب دنیا پر رسول اللہ صلی لما السلام کی بادشاہی ہو جائے یا دوسرے لفظوں میں اسی کا دوسرا نام ہے اللہ کی بادشاہی ہو جائے کیونکہ محمد رسول اللہ صلی الا السلام کا تاج وہ تاج ہے جو رضوان یار کا تاج آپ کے سر پر رکھا گیا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں محمد رسول اللہ صل اللہ ایک سیم