خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 775
خطبات طاہر جلد 17 775 خطبہ جمعہ 6 نومبر 1998ء ”میرے ہاتھ میں ایک چراغ ہے جو شخص میرے پاس آتا ہے ضرور وہ اس روشنی سے حصہ لے گا۔“ میں نو رہوں ، نور لے کر آیا ہوں۔ ایک چراغ میرے ہاتھوں میں روشن ہے جس کو میں اٹھائے ہوئے ہوں جو بھی آئے گالا زما وہ اس روشنی سے حصہ لے گا ۔ اب حصہ دینے کا ارادہ ہو یا نہ ہو جس نے چراغ تھاما ہوا ہو جو بھی اس کے پاس آئے گا اس سے استفادہ کرے گا۔ یہ ایک ایسی طبعی بات ہے جس کو ہٹا یا جاہی نہیں سکتا یہ ہو کر رہے گی۔ پس فرمایا میں صاحب چراغ ہوں جو بھی میرے پاس آئے گا اسے ضرور روشنی ملے گی ، اسے ضرور فائدہ پہنچے گا۔ مگر جو شخص وہم اور بدگمانی سے دور بھاگتا ہے وہ ظلمت میں ڈال دیا جائے گا۔“ ۔ فتح اسلام ، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ: 34) بستے تھے اب دور بھاگتا ہے کا مضمون اچھی طرح سمجھ لیں تو پھر میں اقتباس کو ختم کرتا ہوں ۔ یہ م کرتا ۔ ۔ مراد کرتا ہوں ۔ یہ مراد نہیں ہے کہ چراغ کے گرد نہیں رہ رہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گرد لالہ ملا وامل بھی تو بستے۔ ہے۔ علیہا اور بڑے بڑے دشمن بھی بستے تھے لیکن وہ چراغ کے پاس رہتے ہوئے بھی روشنی سے حصہ نہیں لے رہے تھے ۔ دور بھاگنا جسمانی طور پر دور بھاگنا نہیں ، وہ بھی اس دور ہونے کا ایک نتیجہ ضرور ہے۔ بعض لوگ جسمانی طور پر بھی دور بھاگ جاتے ہیں مگر یہاں مراد یہ ہے کہ چراغ کی روشنی دیکھنے سے جس حد تک کوئی محروم ہوتا چلا جائے اس کو بصیرت ہی نصیب نہ ہو، اس کو بینائی ہی نہ ملے وہ اسی حد تک حضرت مسیح موعود سے دور ہٹتا چلا جائے گا اور وہ اس چراغ کی روشنی کے بظاہر اس کے قریب رہنے کے پھر بھی حصہ نہیں پائے گا۔ پس فرمایا: ” جو شخص وہم اور بدگمانی سے دور بھاگتا ہے۔“‘ اب دور بھاگنے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک بدگمانی بھی ہوا کرتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بے انتہا نشانات دکھائے گئے لیکن بعض نشانات میں بعض دفعہ ایک ایسا ابہام کا پہلو ہوا کرتا تھا کہ جن کے دلوں میں مرض ہوتا تھا وہ تو بدگمانی میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ جن کے دل صدق اور یقین پر قائم ہوا کرتے تھے، جنہوں نے اس نور کو خود دیکھا ہوا ہو وہ سایوں سے دور نہیں بھاگتے ۔ نور کے سائے بھی ہوا کرتے ہیں یعنی کچھ ایسے امور ہوتے ہیں جو بیچ میں اس طرح کھڑے ہو جاتے ہیں کہ اس نور کی روشنی بظاہر ایک جگہ نہیں پڑ رہی اور ایک سایہ سا دکھائی دیتا ہے۔ پس جو