خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 769
خطبات طاہر جلد 17 769 خطبہ جمعہ 6 نومبر 1998ء ہے جو بعد میں ہیں ا مگر وہ درخت اس صورت میں جانتا ہوگا کہ جو کچھ بھی میں نے ٹہنیوں پر خرچ کیا ہے جو! خشک ہوگئیں ہو میں وہ وہ میرے میرے وجود وہ کا حصہ حصہ تھا تھا میری میری محنت محنت کی ) کمائی تھی اور وہ ٹہنیاں جو خشک ہو گئیں وہ ہاتھ سے جاتی رہیں ، وہ اپنی نہ رہیں۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنے درخت وجود میں ان شاخوں کا ذکر فرمادیا جو جماعت سے تو وابستہ ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے درخت وجود کی طرف منسوب ہوتی ہیں مگر خشک ہو چکی ہیں ان میں کوئی تر و تازگی نہیں ، ان کے ساتھ خدا تعالیٰ کا کیا سلوک ہو گا یہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ بعض دفعہ خشک ٹہنیاں بھی ہری ہو جایا کرتی ہیں اور بعض دفعہ ہری نہ ہوں تو جلانے کے کام آتی ہیں اور اسی لئے قرآن کریم نے جہنم میں جلنے والے لوگوں کا ایندھن کے طور پر ذکر فرمایا ہے وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ (البقرة: 25) جہنم میں انسان گویا اس طرح جلیں گے جیسے لکڑیاں جلتی ہیں۔ تو یہ خشک ٹہنیاں وہ ہیں جن کے متعلق دو امکانات ہیں ، ایک احتمال ہے اور ایک امکان ہے۔ احتمال یہ ہے کہ یہ خشک رہیں اور اسی حال میں اگلی دُنیا کے لئے روانہ ہو جا ئیں کہ وہ جہنم کا ایندھن بننے کے سوا اور کوئی کسی کام میں استعمال نہیں کی جاسکتیں اور دوسرا جو امکان ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان انتباہات پر غور کر کے ، ان کی گہرائی میں اتر کے ہر خشک ٹہنی جس کا ایک زندہ درخت سے تعلق ہے اس زندہ درخت سے مزید تعلق قائم کر کے اپنی رگوں میں صحت مند، وہ خون تو نہیں ہوا کرتا مگر خون ہی کی ایک قسم ہے ، صحت مند ماده، صحت مند مائع ۔ رفته رفته خشک ٹہنیاں بھی پھولنے اور پھلنے لگتی ہیں اور یہ ایک عام مضمون ہے جس کا سب دُنیا کو علم ہے کہ خشک ٹہنیاں جب تک وابستہ رہیں ان کی زندگی کے امکانات ہوا کرتے ہیں اگر وابستہ نہیں رہیں گی تو پھر کوئی امید بہار نہیں ہوتی۔ اسی کے متعلق کہا گیا ہے: پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ (علامہ اقبال) یعنی خزاں میں بھی تو وہ ٹہنیاں جو درخت سے لگی ہوئی ہوتی ہیں ساری کی ساری خشک دکھائی دیتی ہیں یعنی بعض درختوں میں تو ایک بھی سر سبز ٹہنی دکھائی نہیں دیتی ان کو خدا پھر زندہ کرتا ہے نا، اس لئے کہ بہار آجاتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی تو خشک ٹہنیوں کو زندہ کیا۔ فرماتے ہیں: