خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 765
خطبات طاہر جلد 17 765 خطبہ جمعہ 6 نومبر 1998ء میں جماعت احمد اعت احمدیہ کی خوش خبریاں دی گئی ہیں ! ہیں اور اس پہلو سے یہ صفات خصوصیت کے سان ساتھ جماعت احمدیہ پر اطلاق پارہی ؟ رہی ہیں جو اس سورۃ میں بیان ہو رہی ہیں ۔ اس میں بہت سے مضامین بھی ہیں۔ مضامین مخفی ہیں یعنی بالکل مخفی تو نہیں مگر ان کے اندر مضمر اس طرح چلے آرہے ہیں کہ اگر ذرا سا بھی غور کرو تو ظاہر ہو جاتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک ایسی تجارت ہے جو درد ناک عذاب سے نجات دے گی ۔ مضمر بات یہ ہے کہ بہت سی دوسری تجارتیں ہیں جو دردناک عذاب سے نجات نہیں دیتیں۔ یہاں تجارت سے مراد محض کاروبار کی تجارت نہیں بلکہ صنعتوں کی تجارت بھی اس میں شامل ہے ہر قسم کے معاملات جن سے انسان کو منافع نصیب ہوتا ہے وہ تمام وسیع اقتصادی عوامل اس آیت کے پیش نظر ہیں جن کے ذریعہ قوم کی معاشیات چلتی ہیں ۔ پس پہلی بات تو قابل غور یہ ہے کہ کیا سب دوسری تجارتیں دردناک عذاب کی طرف لے جانے والی ہیں؟ کیا تجارتوں سے کلیہ روکا جا رہا ہے؟ اور ایک ایسی تجارت کا ذکر کیا جا رہا ہے جو باقی تجارتوں سے الگ ہوتے ہوئے دردناک عذاب سے نجات دے گی ۔ ہرگز نہیں! کیونکہ جو تجارت بیان فرمائی جا رہی ہے اس کی بنا ہی دوسری تجارتوں پر ہے۔ اگلی آیت میں یہ بات خوب کھول دی گئی ہے کہ تجارت سے جو تمہاری آمد نہیں ہوں گی ان آمدنوں کے خرچ کے معاملہ میں ہم تمہیں متنبہ کرتے ہیں کہ وہ خرچ درست ہو ورنہ وہ تجارتیں تمہیں درد ناک عذاب کی طرف لے جائیں گی۔ تو تجارتوں سے نہیں روکا جا رہا، اقتصادی جدو جہد سے نہیں روکا جا رہا بلکہ اس کے نتیجے میں جو کچھ بھی حاصل ہوگا اس کو کس طرح خرچ کرنا ہے، یہ بیان فرمایا جا رہا ہے اور ضمناً اس میں یہ بات داخل ہے کہ وہ مال جس کو خدا تعالیٰ اپنی راہ میں خرچ کرنے کی ہدایت دیتا ہے لازماً پاک وصاف ہوگا ۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ خدا مومنوں سے گندے اموال طلب کرے۔ تو کیسا خوبصورت ضمنی اشارہ موجود ہے کہ مومن تو وہی ہیں جن کی تجارتیں پاک اور صاف ہوا کرتی ہیں ۔ ان میں کوئی گند کی ملونی نہیں ہوتی اور جو پاک وصاف تجارتوں کے نتیجہ میں ان کو حاصل ہوتا ہے وہ پھر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر کے اس کو مزید پاک کرتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں وہ ان کی عقبی سنوار دیتا ہے اور یہ بھی مضمر ہے کہ دنیا بھی سنوار دیتا ہے۔ ان لوگوں کو درد ناک عذاب سے نجات دی جائے گی ۔ دردناک عذاب سے مراد لازماً وہ عذاب نہیں جو آخرت کا عذاب ہے بلکہ اس دنیا میں بھی ایک دردناک عذاب ہے جو انسان اپنی