خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 759
خطبات طاہر جلد 17 759 خطبہ جمعہ 30 اکتوبر 1998ء اس ظاہر ہوا کہ یہ لذت ایک شیطانی فعل تھا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ اللہ قریب آتا، وہ دکھائی دے رہا ہوتا محسوس ہوتا کہ خدا ہمارے قریب آگیا ہے تو اس لذت میں اضافہ ہونا چاہئے تھا۔ اب وہ لوگ جو نیک کام کرتے ہیں اگر ان کا دماغ اس طرف چلا جائے کہ اللہ دیکھ رہا ہے دیکھو کتنے مزے اڑاتے ہیں۔ ان کو اس سے تو کوئی غرض نہیں کہ دُنیا دیکھ رہی ہے مگر جب یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے تو موجیں لینے لگتے ہیں کہ ہمارا دیکھنے والا موجود ہے۔ تو اللہ قریب آئے تو لطف دور نہیں جانا چاہئے ، اللہ قریب آئے تو جو مزہ خدا کا پیارا مزہ ہے اس میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بارہا کھولا ہے یہ احساس کہ اللہ مجھے وقت دیکھ رہا ہے جب میں نیکی کر رہا ۔ کر رہا ہوں اور دُنیا سے چھپ کے کر رہا ہوں ، ر رہا ہوں ، اس احساس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان کے مطابق اتنی لذت پیدا ہو جاتی ہے کہ اس کو سنبھالا نہیں جاسکتا۔ یہی لذت ہے جو مزید عشق دل میں پیدا کرتی ہے۔ تو آنحضرت صلی الا السلام کی تعریفیں، جو چھوٹی چھوٹی تعریفیں آپ صلی السلام نے فرمائی ہوئی ہیں ان کو بنظر غائر دیکھیں ، غور سے ڈوب کر ان کو دیکھیں تو آپ حیران ہو جائیں گے کہ ایک ایک جملہ میں ایک معانی کا سمندر اکٹھا کیا گیا ہے۔ اب پاکباز مرد ، صرف عورتوں کا سوال نہیں ، پاکباز مرد کا چہرہ اور بدکار مرد کا چہرہ بالکل مختلف ہوتے ہیں ۔ ایک پاکباز مرد کے چہرہ پر ایک ایسا معصومیت کا حسن ہوتا ہے کہ اس کو ایک بدکار آدمی کے تعلق میں آپ تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ بدکار چہرہ پہ خواہ وہ عورت کا نہیں مرد کا ہی ہو، اس کے چہرے پر ایسی نحوست طاری ہوتی ہے ، اس کی آنکھیں حیا سے خالی ، اس کا چہرہ ایسا جیسے اس کے حسن کی چمک چھین لی گئی ہو پیچھے ایک بھیانک ساوجود باقی رہ جاتا ہے۔ تو احمدی بچیوں کا ہی کام نہیں احمدی مردوں کا بھی تو کام ہے ۔ ماں باپ کا یہ بھی تو فرض ہے کہ اپنے لڑکوں کے دل میں حیا پیدا کریں اور لڑکوں کے دل میں اگر حیا پیدا ہوگی تو یہ جو مسئلہ ہے آپ کا کہ وہ ٹیلی ویژن میں چھپ کر ایسی چیزیں دیکھ رہے ہیں جو ان کی مخرب الاخلاق ہیں یہ خطرہ خود بخود ٹل جائے گا ۔ جتنا حیا بڑھتی رہے اللہ کے تصور سے، اتنا ہی مخرب الاخلاق تصویریں دیکھنے سے طبیعت متنفر ہوتی چلی جاتی ہے، گھبرا جاتی ہے۔ ایسی بے حیائیوں کو آپ دیکھتے ہیں تو بجائے اس کے کہ ان میں لذت آئے آپ کو دکھائی دیتا ہے کہ بھیا نک بے نور چہرے ہیں ان کی لذتیں بھی شیطانی لذتیں ہیں ان میں کچھ بھی مزہ نہیں ہے اور یہ جو