خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 755 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 755

خطبات طاہر جلد 17 755 خطبہ جمعہ 30 اکتوبر 1998ء رسول اللہ صلی لام السلام نے فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ حیا ایمان میں سے ہے۔“ 66 (صحیح البخاری، کتاب الادب، باب الحياء ، حدیث نمبر : 6118) اگر تم حیا کے خلاف کوئی بات کرو گے تو ہو سکتا ہے اس کا ذہن برک جائے اور پھر رفتہ رفتہ بے حیائی کی طرف مائل ہو یعنی اس کا ایمان جاتا رہے۔ پھر ایک روایت ہے اور اسی روایت کے مختلف پہلوؤں کو میں اب باقی خطبہ میں کھول کر بیان کروں گا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صل الله السلام نے فرمایا: فحش جس چیز میں بھی ہو اس کو بدصورت کر دیتا ہے۔“ اب فحش کے متعلق پہلے میں بیان کر چکا ہوں کہ بے حیائی کی تعریف ہی رسول اللہ صلی السلام نے مخش فرمائی ہے۔فحش کلامی بخش سے نہ شرمانا، یہ بے حیائی کی جان ہے اور اسی سے سارے معاشرے تباہ ہوتے ہیں۔ تو فرمایا کہ: فحش جس چیز میں بھی ہو اس کو بدصورت کر دیتا ہے اور حیا جس چیز میں ہو اس کو مزین اور خوبصورت بنا دیتی ہے۔“ 66 (جامع الترمذی، کتاب البر والصلة باب ما جاء في الفحش والتفحش ، حدیث نمبر :1974) یہ وہ مرکزی پہلو ہے حیا کی خوبیوں کا جس کے متعلق میں چند نکات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔ حیا اور زینت کا جہاں تک گہرا تعلق ہے یہ سب دُنیا کے ادب میں ملتا ہے جہاں تک میں نے مختلف دنیا کی بڑی بڑی زبانوں کے ادب کا مطالعہ کیا ہے ان کی شاعری پر نظر ڈالی ہے اگر چہ تھوڑی نظر ڈال سکا ہوں لازما اتنا وقت تو مل ہی نہیں سکتا ، مگر یہ بات میں نے دیکھی ہے کہ سب دنیا کی قوموں نے حیا کی تعریف حسن کے ساتھ ملا کے کی ہے۔ اپنے محبوبوں کو سارے ہی حیادار بتاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ حیا سے ان کا حسن بڑھتا ہے۔ کبھی دُنیا کے کسی ادب میں کسی شاعری میں آپ بے حیائی کی تعریف نہیں سنیں گے۔ یہ نہیں سنیں گے کہ بے حیائی سے میرا محبوب زیادہ خوبصورت ہو گیا۔ یہ مضمون ہے جو رسول اللہ صلی ال اسلیم نے بنیادی طور پر بیان فرمایا ہے حیا زینت بخشتی ہے اور بے حیائی زینت لے جاتی ہے، دور کر دیتی ہے۔ اس سلسلہ میں دیکھیں غالب بھی تو یہی کہتا ہے کہ جب حیا بھی اس کو آئے ہے تو شرما جائے ہے۔