خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 741 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 741

خطبات طاہر جلد 17 741 خطبہ جمعہ 23 اکتوبر 1998ء نے احتیاطاً یہ بیان کیا ہے کہ شاید یہ کہا ہو کہ نامراد ٹھہرا دے ۔ تو شرماتا ہے کہ نامراد ٹھہرا دے یا شرماتا ہے کہ خالی ہاتھ لوٹا دے ایک ہی چیز ہے ۔ ایک اور حدیث قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ روایت بیان کی ہے کہ: آنحضرت صلی الله السالم کنواری عورت سے بھی زیادہ حیادار تھے۔ ایک کنواری جس طرح حیا کرتی ہے اس طرح آپ حیادار تھے ) جب آپ کسی چیز کو نا پسند کرتے تو اس کا اثر ہم آپ کے چہرہ مبارک سے محسوس کرتے ۔“ (صحيح البخاري، كتاب المناقب، باب صفة النبي ﷺ ، حدیث نمبر : 3562) یعنی آپ صلی شما اسلام کے چہرہ کو دیکھ کر پتا چل جاتا تھا کہ یہ بات آپ صلی لا الہ تم کو پسند نہیں آئی۔ بالعموم آپ صلی اللہ تم اس کا اظہار زبان سے نہ فرماتے ۔ یہ لفظ ترجمہ کرنے والے نے اپنی طرف سے بڑھا دئے ہیں۔ صرف راوی نے یہ بیان کیا ہے کہ آنحضور صلی ای ام جب کسی چیز کو نا پسند فرماتے تو ہم ہمیشہ چہرہ سے اندازہ کیا کرتے تھے کہ ناپسند کیا ہوگا ۔ یہ حدیث ایک طرف اور دوسری طرف وہ احادیث جہاں کسی چیز کو ناپسند کیا تو اس قدر جوش سے اس کے خلاف تقریر فرمائی ہے کہ بعض دفعہ صحابہ یہ دعا کرتے تھے کہ کاش اب رسول اللہ صلی ال السلام خاموش ہو جائیں اور اتنا زیادہ اپنے آپ کو تکلیف میں نہ ڈالیں کہ اس مکروہ بات کے خلاف کہتے چلے جا رہے ہیں۔ تو اب یہ دو باتیں سمجھنے کے لائق ہیں ۔ اگر آپ نہیں سمجھیں گے تو آنحضرت صلی السلام کی ذات کی طرف گو یا تضاد منسوب کریں گے جو ناممکن ہے۔ نہ خدا کے قول میں تضاد ہے نہ خدا کی تخلیق کامل یعنی حضرت محمد مصطفی صلی الا السلام کی ذات میں کسی قسم کا تضاد ہے۔ اب میں باقی احادیث کی روشنی میں اس مضمون کو آپ کے سامنے کھولتا ہوں۔اب ایک طرف تو حیا کا یہ عالم کہ منہ سے بولتے ہی نہیں اور صرف چہرہ بتاتا ہے، دوسری طرف عورتیں اپنی ذاتی باتیں کر رہی ہیں جن کا ان کے حیض وغیرہ سے تعلق ہے اور ایسی باتیں ہیں جو آپ کسی مجلس میں بیان کریں تو کچھ شرم محسوس کریں گے مگر اللہ کا رسول صلی ال کی اہم نہ صرف یہ کہ شرما تا نہیں بلکہ ان خواتین کی تعریف فرما رہا ہے کہ انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی کہ دوسرے سن رہے ہیں اور تعریف اس لئے کہ دوسرے نہ سنتے تو ان کی تعلیم و تربیت نہ ہوتی ۔ تو ایسی باتیں جو بظاہر شرمانے والی ہیں ان سے ایک