خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 734 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 734

خطبات طاہر جلد 17 734 خطبہ جمعہ 23 اکتوبر 1998ء ہو جانے کا تعلق ہے اسلام کا یہ مفہوم بالکل ظاہر و باہر ہے اور اللہ کو ہم سے سلامتی کیسے پہنچ سکتی ہے، وہ تو خود سلام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری طرف سے اللہ کو ہمیشہ سلامتی کی خبر پہنچے گی ۔ ہم اس کی خاطر جب دنیا کے لئے سلامتی کے ضامن ہو جائیں گے تو اللہ کے حضور اسلام اسی کی دوسری صورت ہے اور دنیا کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سلامتی کا پیغام پہنچا ہی نہیں سکتے جب تک کہ اس کے سلام ہونے پر غور نہ کریں اور یہی معنی ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہاں بیان فرمانا چاہتے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ اللہ چونکہ سلام ہے اس لئے اس سلام کے حضور اپنی تسلیم کی گردن خم کرنے کا نام اسلام بھی ہے اور خشیت بھی کیونکہ اللہ کی سلامتی کا تصور جب آپ کرتے ہیں کن معنوں میں وہ سلام ہے تو اس میں وہ تمام خوبیاں پیش نظر رکھنی پڑتی ہیں جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو کوئی ضرر نہ پہنچ سکے اور جہاں جہاں ضرر پہنچ سکے گا وہاں ظاہر ہے کہ انسان کے لئے خوف کا مقام ہوگا۔ تو اللہ اگر کسی کو ضرر پہنچائے گا با وجود سلام ہونے کے تو لازماً اس کے اندر کوئی کمزوری اور کوئی خرابی پائی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں مجسم سلام ہونے کے باوجود وہ اسے کوئی ضرر پہنچاتا ہے ہے۔ یہ اگرچہ باریک اور پیچ دار مضمون دکھائی دیتا ہے مگر ہے بالکل درست اور اسی طرح۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ ظاہر فرمانا چاہتے ہیں کہ جب تم اللہ کو سلام جانتے ہوئے ، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے پھر بھی دیکھتے ہو کہ اس کی طرف سے بعض چیزوں کو ضرر پہنچتا ہے تو اتنا ہی زیادہ خوف کا مقام پیدا ہو جاتا ہے یعنی سلام سمجھنے کے نتیجہ میں بے خوفی آتی ہے اور جہاں جہاں وہ سلام نہ پہنچ رہا ہو اس کے نتیجہ میں ایک خوف پیدا ہونا چاہئے کہ خدا نہ کرے ہم بھی تو ایسے نہیں کہ جنہیں خدا اپنے سلام سے محروم کر دے۔ یہ مضمون جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اگر چہ پیچدار ہے مگر بالکل واضح اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جیسے عارف باللہ پر تو یہ ایک ہی مضمون کے دو نام ہیں ۔ فرمایا: ”کمال خشیت کا مفہوم اسلام کے مفہوم کو مستلزم ہے۔ پس اس آیت کریمہ کے معنوں کا مال اور ماحصل یہی ہوا کہ اسلام کے حصول کا وسیلہ کاملہ یہی علم عظمتِ ذات وصفات ات باری ہے۔“ 66 حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والـ والسلام کی یہ کتاب آئینہ کمالات اسلام بہت لوگوں نے پڑھی ہو گی کبھی ایک دفعہ کبھی دو کبھی تین دفعہ ۔ مگر یہ نمونہ میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے اس سے آپ -