خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 731
خطبات طاہر جلد 17 731 خطبہ جمعہ 23 اکتوبر 1998ء یہ کیفیت تھی ان کی کمزوری کی ۔ تو جو کچھ بھی انقلاب بر پا ہوا وہ صحابہ کی قوت اب برپا ہوا وہ صحابہ کی قوت سے نہیں بلکہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ صل الا السلام کی دعاؤں ہی سے ہوا ۔ پس اس میں ایک سبق ہم سب کے لئے یہ ہے کہ جب بھی دل میں اسلام اور بنی نوع انسان کا درد اٹھے تو اس کے نتیجہ میں جو دعا ئیں پیدا ہوتی ہیں وہ بہت طاقتور ہوتی ہیں اور اگر درد نہ اٹھے یا بناوٹ سے اٹھے تو کوئی دعا بھی نہیں بنتی ۔ اس کے نتیجہ میں کبھی دنیا میں انقلاب بر پا نہیں ہوا۔ تو جب تک بنی نوع انسان کے لئے گداختہ دل انسان پیدا نہ کرے، ایسا دل جس میں سچی ہمدردی ہو، کسی کا غم کسی دوسرے زمین کے کنارہ پر ہو اور اس کے دل کو ستائے اگر ایسا دل ہے تو ایسے دل سے اٹھنے والی دعا ئیں خواہ آنسو نہ بھی نکل رہے ہوں پھر بھی مقبول ہوتی ہیں ۔ پس اس کیفیت کو مضبوطی سے پکڑ لیں ، حرز جان بنالیں ، اس سے کبھی الگ نہ ہوں کیونکہ ہم نے دنیا میں بڑے بڑے انقلابات پیدا کرنے کا اعادہ کر رکھا ہے، ارادہ کر رکھا ہے اور اعادہ غلطی سے کہا مگر اصل میں اعادہ ہی کہنا چاہئے تھا کیونکہ پہلے انقلابات تو رسول اللہ صلی ال ایلیم کے زمانے میں بر پا ہو گئے تو اب انہی انقلابات کے اعادہ کرنے کا ہم نے ارادہ کر رکھا ہے۔ ایک اور اقتباس آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 185 سے لیا گیا ہے ۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: الله جل شانہ سے وہ لوگ ڈرتے ہیں جو اس کی عظمت اور قدرت اور احسان اور حسن اور جمال پر علم کامل رکھتے ہیں۔ خشیت اور اسلام در حقیقت اپنے مفہوم کی رو سے ایک ہی چیز ہے کیونکہ کمال خشیت کا مفہوم اسلام کے مفہوم کو مستلزم ہے۔ پس اس آیت کریمہ کے معنوں کا مال اور ماحصل یہی ہوا کہ اسلام کے حصول کا وسیلہ کاملہ یہی علم عظمت ذات وصفات باری ہے۔“ 66 اب یہ عبارت عام لوگوں کے لئے جو اُردو اور دین کا گہرا علم نہ رکھتے ہوں ان کے لئے سمجھنا مشکل ہے اس لئے خطبہ تو تمام احمدیوں کے لئے ہوتا ہے اس لئے میں اس کو ذرا تشریح سے سمجھانا چاہتا ہوں ۔ الله جل شانہ “ جب ہم کہتے ہیں اللہ جل شانہ تو مراد ہے وہ اللہ جس کی شان بہت بلند ہے ۔ اللہ جل شانہ سے وہ لوگ ڈرتے ہیں جو اس کی عظمت اور قدرت ۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت جو ساری کائنات پر اور اس سے پرے وسیع ہے اور قدرت یعنی جس کے اندر یہ طاقت ہے