خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 719 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 719

خطبات طاہر جلد 17 719 خطبہ جمعہ 16 اکتوبر 1998ء 66 دیکھا جب اس کو رونا آ رہا ہوتا تھا کتاب پڑھتے وقت تو ایک دم ہاتھ ہٹا کے کہتا تھا : ”نہیں نہیں یونہی واقعہ ہے کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ ہمارے گھر کے بچوں میں سے ایک تھا تو مجھے ہنسی بھی بہت آئی لیکن اس کی ذہانت کا بھی میں قائل ہوا اس کو یہ پتا تھا کہ مجھے رونا اس لئے آ رہا ہے کہ میں ان باتوں پہ یقین کر رہا ہوں اس لئے وہ بار بار کہتا نہیں نہیں کوئی نہیں ہر گز نہیں، یہ ایسا کوئی نہیں ہوا ، خیالی باتیں ہیں اور اس طرح اپنے آنسوؤں کو روک رہا تھا مگر یہ تو اس کو پتا چل سکتا تھا اور چل گیا کہ میرا دل نرم ہے اور دردناک باتوں پر رونا آتا ہے مگر تعلق کی وجہ سے آتا ہے یہ بھی اس کو پتا تھا جب تعلق کاٹ دو تو پھر کوئی رونا نہیں آتا ۔ تو خشوع و خضوع دو طریق پر ہوا کرتا ہے۔ ایک فرضی تعلق پر اور ایک حقیقی تعلق پر ۔ اب ماں جب بچے کے لئے روتی ہے تو کون کہہ سکتا ہے کہ یہ دکھاوا ہے۔ وہ ایک گہرا تعلق ہے اور وہی ماں جب فرضی قصوں پر روتی ہے تو دکھاوا نہ سہی مگر حقیقت نہیں ہے۔ یہ ہے مضمون جو بہت بار یک تجزیہ کو چاہتا ہے ورنہ ہمیں کیا پتا کہ ہم اللہ کی خشیت سے رورہے ہیں ، رسول اللہ صل الله السلام کی محبت ت سے رو رہے ہیں یا ویسے ہی واقعات ہی دردناک دردناک ہیں ان ان کی کی وجہ وجہ ۔ سے ہمیں رونا آ رہا ہے۔ یہ تمہید ہے ان اقتباسات کے لئے جو میں نے بیان کی جو میں ابھی آپ کے سامنے پڑھ کے سناتا ہوں اور ایک اور پہلو بھی اس کا یہ ہے کہ بعض اوقات خشوع و خضوع وقتی طور پر آتا ہے اور بعض دفعہ مستقل اثر پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو ان اقتباسات میں جو میں بیان کروں گا، پڑھ کے سناؤں گا، ان میں موجود ہیں۔ ملفوظات جلد اوّل ، صفحہ 100 ، 101 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ نے انسان کی قضاء و قدر کو مشروط کر رکھا ہے۔“ دو قضاء و قدر بھی مشروط ہے یعنی یہ خیال کر لینا کہ قضاء ہے جولا زما جاری ہوگی اور اس کو ٹالا نہیں جا سکتا، یہ درست نہیں کیونکہ قضاء کو کیسے ٹالا جا سکتا ہے یہ بھی قضاء ہے اور قضائے الہی کا ایک حصہ ہے۔ اگر آپ کو علم ہو کہ قضاء کتنے وسیع مضمون پر اطلاق پاتی ہے اور قضاء کے اندر قضاء چلتی ہے تو پھر یہ مشکلات آسانی سے حل ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : خدا تعالیٰ نے انسان کی قضاء و قدر کو مشروط کر رکھا ہے جو تو بہ، خشوع خضوع سے ٹل سکتی ہے۔ جب کسی قسم کی تکلیف اور مصیبت انسان کو پہنچتی ہے تو فطرتا اور طبعاً اعمال وو حسنہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔“