خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 712 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 712

خطبات طاہر جلد 17 712 خطبہ جمعہ 16 اکتوبر 1998ء کرتا ہے کہ پرانے علماء یا پرانی قوموں کے حالات بیان کرتے ہوئے ان کی مشابہتیں پیش نظر رکھتا ہے۔ جب بھی ، جس قوم کو بھی ان سے مشابہت ہو گی وہی قرآن کے مخاطب ہوں گے ۔ تو اس تمہید کے ساتھ میں اب ان آیات کا ترجمہ اور کچھ ان کی تفسیر بیان کرتا ہوں۔ آتَامُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمُ : یہود علماء اپنے اس دور میں جس میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ان کی اصلاح کے لئے نازل ہوئے ، اس دور میں کثرت کے ساتھ ان بیماریوں کا شکار ہو گئے تھے۔ تلاوت تو کتاب کی کرتے تھے مگر اپنے نفوس کو بھول جاتے تھے یعنی تلاوت کرتے تھے اور اس تلاوت سے جو کچھ بھی لوگوں کے سامنے بیان کرتے تھے وہ اچھا تھا یا برا، بعض دفعہ وہ تبدیل بھی کر دیا کرتے تھے مگر یہاں وہ تبدیلی مراد نہیں ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہ تلاوت کتاب سے یہ معاملہ جان لیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ کی تعلیم دے رہا ہے نیکیوں کو پورے خلوص کے ساتھ اختیار کرنے اور بدیوں کو پورے عزم کے ساتھ رڈ کرنے کا حکم دے رہا۔ م دے رہا ہے۔ یہ بات بیان کرتے و وقت وہ اپنے نفوس کو بھول جایا کرتے تھے۔ یہ اپنے نفوس کو بھولنے کے دو معانی ہیں۔ ایک تو یہ کہ خود اپنے اوپر ان نیکیوں کا، ان نصیحتوں کا عمل نہیں ہوا کرتا تھا۔ بدکردار لوگ تھے لوگوں کے سامنے تو نیکیاں بیان کرتے تھے مگر خود اپنے حال پر کبھی نظر نہیں ڈالتے تھے کہ ہم خود بھی ان نیکیوں کو اختیار کر رہے ہیں یا نہیں۔ انفسکم کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اپنے عزیز واقارب، اپنے قریبی، اپنی جانوں کو جوان سے تعلق رکھتی ہیں ان کے معاملہ میں آکر تو آنکھیں موند لیا کرتے تھے، آنکھیں بند کر لیا کرتے تھے وہ جس حال میں تھے جو کچھ کرتے رہے تھے وہی ان کو اچھا لگتا تھا اور ان کو خاص طور پر نیکیوں کا حکم اور بدیوں سے روکتے نہیں تھے۔ تو یہ سارے معانی اسی آیت کریمہ کے اس محاورہ میں شامل ہیں ۔ آتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ : عوام الناس کو تو تم نیکیوں کا حکم دیتے ہو وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمُ : مگر اپنی جانوں کو اور اپنے عزیز واقارب کو بھول جاتے ہو۔ وَ انْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَبَ اور یہاں تَتْلُونَ الکتب کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ خبردار تمہیں پتا ہے کہ جس عادت میں تم مبتلا ہو اس کو کتاب رڈ کر رہی ہے، جانتے بوجھتے ہوئے ایسا کرتے ہو ۔ افَلَا تَعْقِلُونَ : پس کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے یا عقل سے کام نہیں لو گے۔ اب جو اگلی آیت کریمہ ہے یہ تمام بنی نوع انسان کو لیکن خصوصیت سے مسلمانوں کو مخاطب ہے وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة : اور مدد مانگو صبر کے ساتھ اور صلوٰۃ کے ساتھ ۔ اب بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة