خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 706
خطبات طاہر جلد 17 706 خطبہ جمعہ 9 اکتوبر 1998ء لازم ہیں ۔ اللہ کا بھی علم ہو اور اپنی ذات کا بھی علم ہو۔ یہ دنیاوی علماء مراد نہیں ہیں جنہوں نے عربی گرامر میں پڑھی ہوں یا قرآن کریم کو مجلسوں میں پڑھا رھا ہوا ہو، ان سے یہ یہ علم عطا نہیں ہوا کرتا۔ اللہ کے نزدیک علماء وہ ہیں جو ظاہری علوم نہ رکھنے کے باوجود باطنی طور پر سب سے بڑے عالم ہوں ۔ اس پہلو سے آنحضرت صلی الیم پر غور کر لو۔ آنحضور صلی السلام نے کن مجلسوں میں تعلیم پائی تھی ، کہاں مختلف زبانوں کے علوم حاصل کئے تھے ، کہاں سائنس پڑھی تھی ، کہاں دُنیا کے عجائبات پر غور کیا ، ان کو دیکھا، کچھ بھی نہیں ۔ امی تھے اور دُنیا کے سب علماء سے بڑھ کر عالم اس لئے کہ اللہ کی خشیت تھی دل میں اور خشیت کے نتیجہ میں صرف خدا کا خوف اور اپنے نفس کی معرفت ہی حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے نتیجہ میں پھر اللہ تعالیٰ وہ علوم عطا فرما یا کرتا ہے جو ہر زنگ اور بدی سے پاک ہوتے ہیں۔ اس لئے واقعہ آنحضرت صلی اللہ ہم سب عالموں سے بڑھ کر عالم تھے ۔ نہ آپ صلی ا ایک کام سے پہلے کوئی ایسا عالم گزرا ، نہ آئندہ کبھی قیامت تک ایسا عالم پیدا ہو سکتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم کو پڑھ کر غور سے دیکھ لیں اس کثرت سے علوم کا بیان ہے جو پہلے گزر گئے تھے، جو بعد میں آنے والے تھے قیامت تک آنے والے علوم کا اور قیامت کے بعد ظاہر ہونے والے علوم کا، ازل کا علم ہے جو قرآن کریم میں ہے اور یہ کتاب آنحضرت صلی السلام پر اتاری گئی کیونکہ اس آیت کا صحیح ، کامل اطلاق آپ صلی السلام کی ذات پر ہوتا تھا کہ إِنَّمَا يَخْشَى اللهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا کہ اللہ سے تو صرف وہی ڈرتے ہیں جو اللہ کے نزدیک علماء ہوں اور علم کا دوسرا نام خشیت الہی ہے۔ اب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات کے حوالے سے اس مضمون کو آگے بڑھاتا ہوں ۔ پہلے اقتباس میں افلح کے وہ معنی بیان ہوئے ہیں جن کی طرف عام طور پر لوگوں کا دھیان نہیں جاتا کیونکہ افلح کا مطلب یہ نظر آتا ہے جس نے نجات حاصل کر لی ۔ یہ لازم ہے اور اگر متعدی کے معنوں میں لیا جائے تو جس نے نجات دے دی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو معنی لغت کے حوالہ سے بیان فرمائے ہیں وہ اس سے کچھ مختلف ہیں ۔ فرمایا : افلح کے لغت میں یہ معنے ہیں کہ اُصِيرَ إلى الفلاح ۔ (کہ وہ فلاح کی طرف پھیر دیا گیا)