خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 59
خطبات طاہر جلد 17 59 خطبہ جمعہ 23 جنوری 1998ء پس آنحضرت صلی السلام کے مقام پر جتنی بھی باتیں ہوں گی اس میں یہ پہلو پیش نظر رکھیں کہ آپ قریب بھی ہیں اور بعید بھی ہیں لیکن قریب ہونے پر آپ کو معلوم ہوگا کہ کتنے بلند ہیں۔ جب تک آپ سے الا یہ کام سے دور ہیں آپ کو آپ صلی لا السلام کی بلندی کا پتا نہیں چلے گا ۔ آپ کو کوئی بھی قرب نصیب نہیں ہوگا ۔ اب میں ان روایات سے بات شروع کرتا ہوں جو آخری عشرہ سے متعلق ہم نے اکٹھی کی ہیں۔ ایک ہے : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَالَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ “ (صحیح مسلم، کتاب الاعتکاف، باب الاجتهاد فى العشر الاواخر من شهر رمضان، حدیث نمبر : 1175) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ آخری عشرہ میں آنحضرت صلی الله السلام عبادات میں اتنی کوشش فرماتے تھے جو اس کے علاوہ دیکھنے میں نہیں آئی۔ تو رمضان میں وہ کوشش کیا ہوتی ہوگی جو عام طور پر حضرت عائشہ صدیقہ کے دیکھنے میں بھی نہیں آئی اور آپ صلی السلام کی روایات جو رمضان کے علاوہ ہیں وہ ایسی روایات ہیں کہ ان کو دیکھ کر دل لرز اٹھتا ہے کہ ایک انسان اتنی عبادت بھی کر سکتا ہے۔ ساری ساری رات بسا اوقات خدا کے حضور بلکتے ہوئے ایک سجدہ میں گزار دیتے تھے۔ جس طرح کپڑا انسان اتار کر پھینک دیتا ہے اسی طرح آپ صلی السلام کا وجود گرے ہوئے کپڑے کی طرح پڑا ہوتا تھا اور حضرت عائشہ صدیقہ سمجھا کرتی تھیں کہ کسی اور بیوی کے پاس نہ چلے گئے ہوں ، تلاش میں گھبرا کر باہر نکلتی ہیں اور رسول اللہ صلی ا الکلام کو ایک ویرانے میں پڑا ہوا دیکھتی ہیں اور جوش گریاں سے جیسے ہانڈی ابل رہی ہو ایسی آواز آرہی ہوتی تھی ۔ وہ عائشہ جب گھر کو لوٹتی ہوگی تو کیا حال ہوتا ہوگا ۔ کیا سمجھا تھا اپنے آقا اور محبوب کو اور کیا پایا۔ یہ عام دنوں کی بات ہے، یہ رمضان کی بات نہیں ہے۔ عام دنوں میں یہ پایا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے ۔ آپ گواہی دیتی ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی الیتیم پر آخری عشرہ میں ایسے وقت آتے تھے کہ ہم نے پہلے کبھی دوسرے دنوں میں نہیں دیکھے۔ ان کیفیات کو بیان کرنا انسان کی طاقت میں نہیں ہے۔ نہ میری طاقت میں ہے نہ کسی اور انسان کی طاقت میں ہے لیکن آپ نے خود ان کیفیات سے کہیں کہیں پردہ اٹھایا ہے اور بتایا ہے کہ