خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 682 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 682

خطبات طاہر جلد 17 682 خطبہ جمعہ 2 اکتوبر 1998ء بن سفیان كِتَابُ الجِهَادِ وَالشَّيرِ ، بخاری ہی سے ایک حدیث ریت لی گئی ہے ۔ حضرت جندب بن بیان فرماتے ہیں کہ: آنحضور صلی ا ہم کسی جنگ میں تھے کہ آپ صلی ستم کی انگلی زخمی ہو گئی ( یعنی سارا بدن زخموں سے چور رہا ہے مختلف وقتوں میں لیکن ایک جنگ میں انگلی کو زخم آیا تو آپ مالی الا السلام نے اسے مخاطب کرتے ہوئے یہ شعر پڑھا) تو تو صرف انگلی ہی ہے اور نصیب دیکھ اپنا کہ خدا کی راہ میں خون بہا رہی ہے۔“ (صحیح البخاری، کتاب الجهاد و السير ، باب من ينكب أو يطعن في سبيل الله ، حدیث نمبر : 2802) پس وہ جو مختلف مواقع پر خدا کے پیار کی نظریں پڑا کرتی تھیں سب سے زیادہ وہ مواقع آنحضرت صلی الا یہ کام کو نظر آئے ہیں اور خدا نے ان مواقع کو اس پیار سے دیکھا کہ جس پیار سے آنحضور صلی لا السلام اُنگلی کو دیکھ رہے تھے وہ اللہ کی نظریں پڑ رہی تھیں جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَهْى (الانفال : 18) تو نے تیر نہیں چلایا بلکہ اللہ نے تیر چلایا تو گویا خدا کے الفاظ میں آپ اس انگلی کو مخاطب تھے کہ بڑی خوش نصیب ہے تو ، اللہ کی راہ میں تجھے خون بہانے کی توفیق مل گئی ۔ بخارى كتاب الجِهَادِ بَابُ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ اس میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک روایت مروی ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : ! میرے چچا انس بن نضر جنگ بدر میں شامل نہیں ہو سکے تھے اور اس کا ان کو بڑا افسوس اے اللہ کے رسول صلی لا الہ کی پہلی جنگ جو آپ صلی الا یہ کام تھا۔ آپ نے ایک دفعہ کہا اے نے مشرکین سے لڑی اس میں میں شامل نہیں ہو سکا ، آئندہ کبھی مشرکین سے جنگ کرنے ہوا تھا۔ کا اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو میں اللہ کو دکھاؤں گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔“ چنانچہ وہ آیت کریمہ جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ (الاحزاب: 24) ان قربانی دینے والوں میں ان خدا کی راہ میں خون بہانے والوں میں سے وہ بھی تھے کہ جنہوں نے اپنی منتوں کو پورا کر دیا ۔ بڑا دعویٰ کیا کہ میں خدا کو دکھاؤں گا اور واقعہ دکھا دیا۔ ان کے متعلق جو واقعہ درج ہے وہ یہ ہے۔