خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 676 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 676

خطبات طاہر جلد 17 676 خطبہ جمعہ 25 ستمبر 1998ء اب آنحضور صلی ال اسلام کی ایک اور حدیث مسلم کتاب الزكوة باب فضل اخفاء الصدقة سے لی گئی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی السلام نے فرمایا: جس دن اللہ تعالیٰ کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا اس دن اللہ تعالی سات آدمیوں کو اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے گا۔“ (صحیح مسلم کتاب الزکوۃ باب فضل اخفاء الصدقة ، حدیث نمبر :2380) یہ حدیث بظاہر قیامت سے تعلق رکھتی ہے یعنی اخروی زندگی میں جو حشر برپا ہوگا لیکن اس دنیا میں بھی ایسے مواقع آتے ہیں قومی سطح پر اور بعض دفعہ عالمی سطح پر جبکہ کوئی سایہ خدا کے سائے کے سوا پناہ نہیں دے سکتا بلکہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ بعض سائے مضر ہوں گے، بعض سائے ایسے ہونگے جو ہلاکت کی طرف لے جارہے ہوں گے۔ اب یہ سائے کا مضمون جو ہلاکت کی طرف لے جانے والا ہے وہ دو معنی رکھتا ہے۔ ایک ان قوموں کا سایہ جن کے سائے تلے آپ دنیاوی منفعت کی خاطر آگئے ہوں۔ ان کا سایہ عالمی خطرات کے وقت آپ کو ہمیشہ جہنم میں جھونکے گا۔ جب جنگ عظیم ثانی ہو رہی تھی تو برطانیہ کے سائے میں جتنے ممالک تھے وہ سارے اپنے باشندوں کو آگ کی جہنم میں جھونک رہے تھے تو وہ سایۂ امن دینے والا سا یہ تو نہیں تھا۔ وہ تو خطرات پیدا کرنے والا سایہ تھا اور اس کے علاوہ بھی بظاہر وہ سایہ جو اقتصادی سایہ ہو، اقتصادی خطروں سے پناہ دیتا ہے مگر اگر آپ غور سے دیکھیں تو اس سائے میں آپ کی رہی ۔ سہی دولت بھی ہاتھ سے جاتی رہے گی۔ جس قوم نے بھی اس سائے کو قبول کیا ہے اس سائے نے ان کو کبھی امن نہیں دیا۔ وہ ہمیشہ ایک بدحالی سے دوسری بدحالی کی طرف منتقل ہوتے رہے ہیں ان کا سارا مال وزر لوٹ لیا جاتا ہے بظاہر اقتصادی چھتری کے نتیجہ میں تو قرآن کریم نے جس سائے سے ڈرایا ہے اس میں یہ ڈرا وا بھی شامل ہے کہ اللہ تمہیں اس سائے سے ڈراتا ہے جس کے نیچے کوئی امن نہیں ہوگا وہ تباہ و برباد کرنے والا سایہ ہو گا ۔ دوسرا وہ سایہ جو دھوئیں کی طرح اٹامک وار فیئر کے وقت ہوگا۔ اٹھتا ہے وہ بھی بعینہ اس وقت کا سایہ ہے جس میں سوائے اللہ کے سائے کے کوئی سایہ امن نہیں دے سکتا اور ایسے خطرات اب دن بدن قریب آ رہے ہیں ۔ عالمی لحاظ سے بھی قریب آ رہے ہیں اور بعض ممالک کے لحاظ سے بھی قریب آرہے ہیں ۔ یہ سارا جو ریجن ہے یعنی وہ خطہ جس میں ایران،