خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 671 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 671

خطبات طاہر جلد 17 671 خطبہ جمعہ 25 ستمبر 1998ء اب دو قطرے اور دونشان کتنی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں مگر اللہ کی پسند کیا ہے۔ دو قطرے اور دو نشان ۔ یہ قطرے جس کو نصیب ہو جا ئیں وہ فلاح پا جائے گا۔ اور یہ نشان جس کے بدن پر لگ جائیں وہ یاد رکھے کہ ہمیشہ اللہ ان نشانات کو پیار اور محبت سے دیکھتا ہے۔ اس لئے کہ اللہ کو تو ہم سے کچھ بھی نہیں چاہئے سوائے سچے عشق اور سچی محبتوں کی علامتوں کے ہمیں اس سے سب کچھ چاہئے ۔ پس جب وہ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی بھی اتنی قدر فرماتا ہے آنحضور صلی السلام فرماتے ہیں کہ اس سے زیادہ اللہ کو کوئی چیز بھی پیاری نہیں ۔ اس سے اندازہ کریں کہ ہم اپنی زندگی کو اس طرح ڈھال سکتے ہیں کہ ہر حال میں زندگی کے ہر لمحہ میں اللہ کی نظر ہم پر پڑتی رہے۔ قطرے تو ضروری نہیں ہمیشہ جاری رہیں مگر ساتھ ہی آنحضور صلی الیم نے ان نشانوں کا ذکر فرمادیا جو ہمیشہ رہتے ہیں تو اللہ کبھی بھی آپ سے غافل نہیں رہتا حالانکہ آپ بسا اوقات اللہ سے غافل ہو جایا کرتے ہیں۔ یہ اس پہلو سے بہت ہی دلچسپ حدیث ہے اب میں اس کی تفصیل پڑھ کے سناتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دو قطروں اور دو نشانوں سے زیادہ کوئی چیز پسندیدہ نہیں ۔ ایک خدا تعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے آنسوؤں کا قطرہ۔ (ایک قطرہ جو زندگی میں کبھی کبھی بھی بہایا جا سکتا ہے فرمایا اللہ کو وہ قطرہ عزیز ہے ) دوسرا خدا تعالیٰ کی راہ میں بہایا جانے والا خون کا قطرہ (جامع الترمذی، کتاب فضائل الجهاد عن رسول الله ﷺ ، باب ما جاء في فضل المرابط ، حدیث نمبر : 1669) یعنی جو شہید ہو جاتے ہیں ان کے تو سارے خون بہہ جاتے ہیں مگر اللہ کی راہ میں اگر خون کا ایک قطرہ بھی بہے تو وہ قطرہ بھی اللہ کو عزیز ہے۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ شہداء کا خون جو بہتا ہے وہ خدا کو کیسا عزیز ہوگا ۔ پس یہ خون کا قطرہ تو ہر ایک کو نصیب نہیں ہے جو خدا کی راہ میں بہایا جائے۔ آنسوؤں کا قطرہ نصیب ہوتا ہے مگر وہ بھی ہمیشہ نہیں اور یہ خون کا قطرہ تو کچھ خوش نصیبوں ہی کو ملا کرتا ہے۔ چنانچہ جماعت احمدیہ پاکستان پر اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا احسان اور بڑا فضل ہے کہ وہاں ہزار ہا ایسے احمدی ہیں جن کو خدا کی راہ میں کچھ خون بہانے یا کم سے کم خون کا ایک قطرہ بہانے کا موقع ضرور عطا ہو گیا ہے۔ اس پہلو سے یہ ایک عظیم سعادت ہے جس کی کوئی مثال آپ کو دُنیا میں دکھائی نہیں دے گی کہ اس کثرت سے ایک قوم ہو جس میں ہزار ہا لوگوں کو اللہ کی خاطر اپنا خون بہانے کی