خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 667
خطبات طاہر جلد 17 667 خطبہ جمعہ 25 ستمبر 1998ء اے خدا اور بھی کچھ ہے تو وہ بھی ڈال دے۔ پس یہ متقیوں کے نفس کی بات ہر گز نہیں ہو رہی ، اولیاء کے نفس کی بات ہر گز نہیں ہو رہی، ان کے نفس کی بات بھی نہیں ہو رہی جو کچھ نہ کچھ ایمان رکھتے ہوں۔ کلیہ ایمان سے نابلد لوگوں کی باتیں ہو رہی ہیں۔ فرمایا کہ ان کا نفس سیر نہیں ہو سکتا ۔ پس ان کی دعا سنی بھی جائے تو هَلْ مِنْ مزید کی آوازیں اٹھتی رہیں گی۔ اور پھر ایسے علم سے جو نفع رساں نہیں ہوتا۔ میں ایسے علم سے پناہ مانگتا ہوں جس کا فائدہ دوسروں کو نہ پہنچے حالانکہ حضرت رسول الله حضرت رسول اللہ صلی ایام کو جو بھی علم تھا دین کا یا دنیا کا آپ صلی ا اسلام نے کلیتہ بنی نوع انسان کے لئے وقف کر دیا تھا اور اپنی امت کو بھی یہی نصیحت فرماتے رہے کہ جتنا علم ہے وہ سارا بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے خرچ کرو اور قرآن کریم ان آیات سے بھرا پڑا ہے جن کا مضمون یہ ہے کہ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة: 4) جو کچھ بھی ہم ان کو دیتے ہیں وہ اس میں سے خرچ کرتے چلے جاتے ہیں۔ تو دیکھیں یہ کیسے ممکن ہے کہ آنحضور صلی السلام نے اولیاء تو در کنارا اپنی امت کے عام لوگوں کے متعلق بھی یہ خطرہ محسوس کیا ہو مگر اس زمانہ کے لوگ جو دنیا پرست ہو چکے ہوں گے وہ اپنے آپ کو امت سمجھیں گے مگر وہ امت ہوں گے نہیں ان کی باتیں ہو رہی ہیں اور جو دنیا میں اپنے آپ کو اپنی تمناؤں ، اپنی خواہشات کو جھونک دے، اس کا علم لوگوں کے لئے نفع رساں نہیں ہوتا۔ اب اس میں بظاہر ان حالات سے جو آج کل ہیں ایک تضاد سا دکھائی دے رہا ہے۔ دنیا پرست ہی ہیں جنہوں نے اتنے علوم ایجاد بھی کئے اور اتنے علوم میں غیر معمولی ترقی بھی کی اور اس کے نتیجہ میں جو کثرت سے ایجادات کی ہیں وہ ساری نفع رساں ہیں ۔ آج کوئی بھی ایسی ایجاد نہیں جس کا آغاز اہل مغرب سے نہ ہوا ہو۔ اس سے بہت پہلے آپ مسلمان دانشوروں کی باتیں تاریخ میں تو پڑھتے ہیں لیکن فی زمانہ جو علم پھیلا ہوا ہے جس کے بے شمار فوائد ہیں آپ اس علم میں اہل اہل مغز مغرب ہی کے محتاج ہیں جو دہریت کے سب سے بڑے علمبردار ہیں جنہوں نے دنیا کو مادہ پرستی سکھائی۔ ہونے والا باقی ہے کہ ایسے علم سے جو نفع رساں نہیں کیا ان تینوں سے یہ الگ لوگ ہیں حالانکہ ایک ہی مضمون بیان ہو رہا ہے۔ در حقیقت ان کا علم نفع پہنچانے کی خاطر نہیں بلکہ نفع حاصل کرنے کی خاطر ہے۔ یہ چھوٹا سا ئل دے دیں بات کو تو اصل حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ جتنے علوم دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، جتنی بڑی بڑی یونیورسٹیاں ہیں، جتنی بڑی بڑی لمبی تحقیقات ہو رہی