خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 639 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 639

خطبات طاہر جلد 17 639 خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1998ء کہ مدینہ کی گلیوں میں آواز دینے لگ گئے کہ مَنْ قَالَ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ جس نے بھی کہا لا اله الا اللہ وہ جنت میں داخل ہو گیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو گریبان سے پکڑ لیا کہ یہ تم کیا کہتے پھر رہے ہو ۔ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی ال کی ہم نے اسی طرح فرمایا ہے ۔ اب اس کو وہاں جھٹلایا نہیں مگر سمجھ گئے کہ یہ بات سمجھا نہیں اسی طرح گریبان سے پکڑے گھسیٹتے ہوئے رسول اللہ صلی شما ای تی کے پاس لے لے ۔ گئے ۔ آپ صلی للہ السلام سے پوچھا یا رسول اللہ صلی الا ایلیم آپ نے فرمایا تھا ؟ آپ صلی الا ای ایم نے فرمایا ہاں میں نے کہا تھا۔ نہ یہ سمجھا ہے نہ اس سے لوگ ٹھیک سمجھیں گے کچھ کا کچھ مضمون بنالیں گے ہر ایک یہ کہے گا لا اله الا اللہ اور اس کے بعد وہ سمجھے گا کہ جنت میں داخل ہو گیا ہے۔ رسول اللہ صلی الا یہ کام نے ان کی بات قبول فرمائی ۔ ٹھیک کہتے ہو ۔ اگر محض یہی آواز دی جائے تو جس طرح ابو ہریرہ کو بات کی سمجھ نہیں آئی کثرت سے لوگ اس مضمون کی حقیقت کو نہ سمجھ سکتے ۔ (صحیح مسلم ، کتاب الایمان، باب من لقى الله بالايمان وهو غير شاك فيه دخل الجنة ، حدیث نمبر :147) چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسی پہلو سے حضرت ابوہریرہ" کے متعلق فرمایا ہے کہ سادہ دماغ کے تھے اور روایتوں کو سمجھنے میں غلطی کر جایا کرتے تھے ۔ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ : 36) بہت سے غیر احمدی علماء نے اس پر مسیح موعود کے متعلق اعتراض کیا ہے کہ یہ دیکھو ، یہ کون ہوتا ہے صحابہؓ کو اور ان میں سے ابوہریرہ کو موٹے دماغ کا کہنے والا ۔ حالانکہ اس حدیث سے جو میں نے پڑھی ہے بالکل یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی الیتیم کے سامنے حضرت عمرؓ نے جو بات بیان کی آپ صلی السلام نے تسلیم فرمائی اور کئی ایسی روایات ہیں جو بے چارے سمجھ نہیں سکے ۔ بیان میں سچے تھے یہ وہ بات ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی السلام فرماتے ہیں جھٹلاؤ نہیں۔ ایک روایت بھی حضرت ابو ہریرہ کی جھوٹی نہیں ہے مگر ہر روایت قابل اعتماد نہیں ہے کیونکہ اگر آپ کی ساری روایتوں کو ان کی درایت کے لحاظ سے سے ا ان کے مضمون کے لحاظ سے درست تسلیم کیا جائے تو حدیث کی دنیا میں ایک فساد برپا ہو جائے گا۔ پس دیکھیں حضور اکرم صلی الٹا الیتیم کی چھوٹی چھوٹی نصیحتوں میں کتنے گہرے اسرار ہیں ۔ اسے جھٹلائے نہیں اور نہ اس کو رسوا کرے۔ کیونکہ رض جب اسے جھٹلاؤ گے تو لوگوں کے سامنے لازم ہے کہ وہ رسوا ہوگا اور رسوا نہ کرنے کا مضمون ویسے بھی ہے۔ کوئی سچا مومن اپنے بھائی کو رسوا نہیں کیا کرتا ۔ ایسی باتیں اس کے متعلق نہیں کہتا جس کی وجہ سے