خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 630
خطبات طاہر جلد 17 630 خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1998ء نہیں کی گئی اور ہر چیز ودیعت کر دی گئی ہے۔ تو اس پہلو سے وَ انْتُمْ تَعْلَمُونَ کا مطلب ہے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی خائن ہو اور اسے علم نہ ہو کہ میں خائن ہوں ۔ بعد میں اللہ کی جتنی قسمیں چاہے کھائے جب آپ اس کے سودوں پر غور کریں گے تو صاف دکھائی دے دے گا کہ بغیر علم کے اس نے سودا کیا ہی نہیں تھا، اچھا بھلا جانتا تھا کہ میں بھی خائن ہوں اور جس سے سودا کر رہا ہوں وہ بھی خائن ہے۔ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ اب خیانت کی وجہیں دو ہو سکتی ہیں ، و دو ہو سکتی ہیں ، دونوں بیان فرمادی گئیں ۔ اول یہ کہ تمہارے اموال فتنہ ہیں۔ تم جب اموال کو بڑھانے کی کوشش کرو گے اور ناجائز طریق پر بڑھانے کی کوشش کرو گے تو یہ فتنہ ہے۔ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ اور بعض دفعہ اولاد کی خاطر محض اپنی ذات کی خاطر نہیں بلکہ اولاد کی خاطر بد دیانتیاں کی جاتی ہیں، عہد توڑے جاتے ہیں۔ تو دونوں کا ذکر فرما دیا ۔ وَ أَنَّ اللهَ عِنْدَةً اَجْرٌ عَظِيمٌ اور اگر تم اجر چاہتے ہو جو تمہیں بھی ملے اور تمہاری اولاد کو بھی ملے اور اس عارضی فائدہ سے بہت زیادہ ہو جو تم دھوکا بازی سے حاصل کرتے ہو تو اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ اس دُنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی ہے۔ تعجب ہے کہ ان واضح کلمات کے باوجود پھر لوگ اللہ پر توکل کیوں نہیں کر ۔ کرتے ۔ ۔ جب اللہ خیانت کے خلاف تعلیم دے رہا ہے تو خود کیسے خائن ہو سکتا ہے۔ وہ عہد شکنی کے خلاف تعلیم دے رہا ہے تو خود عہد شکن کیسے ہو سکتا ہے۔ اس میں تو اللہ نے عہد کر لیا ہے کہ تم میری خاطر خیانت چھوڑ دو، میری خاطر دھوکا بازی سے پر ہیز کرو۔ اگر واقعہ تم نے میری خاطر ایسا کیا ہو گا تو جو تم اجر چاہتے ہو ان کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ تمہیں بہت وسیع اجر دے گا اور یہ امر واقعہ ہے کہ دیانتدار لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہی اجر عطا فرماتا ہے اور اتنا عطا کرتا ہے کہ محاورہ میں کہتے ہیں چھپر پھاڑ کے عطا کرتا ہے۔ اس کی کثرت سے مثالیں پرانے زمانہ میں بھی ہیں اس نئے زمانہ میں بھی ہیں یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دور کی بھی۔ حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب راجہ کشمیر کے دربار میں طبابت کرتے تھے اور ملازمت کر رہے تھے اس زمانہ میں آپ نے وقتی ضروریات کے لئے ، وہ ضروریات کیا تھیں لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ، بہت قرض اٹھائے اور نیت یہ تھی کہ میں لازماً قرض ادا کروں گا۔ اب اس زمانہ کے لحاظ سے اندازہ کریں کہ ایک لاکھ پچانوے ہزار قرض ہو گیا اور اس زمانہ میں یہ رقم