خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 51 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 51

خطبات طاہر جلد 17 51 خطبہ جمعہ 16 جنوری 1998ء ایسا بنے کہ خدا اس کے نفس پر شفقت کرے کیونکہ انسان کی شفقت اس کے نفس پر اس کے واسطے جہنم ہے۔۔۔ (بڑا ظلم کرتا ہے جو اپنے دل پر رحم کرتا ہے، اپنے آپ پر رحم کرتا ہے وہ تو مصیبتیں سہیڑ لیتا ہے، وہ جہنم اپنے اوپر وارد کر لیتا ہے )۔۔۔ اور جو خود آگ سے بچنا چاہتے ہیں وہ آگ میں ڈالے جاتے ہیں ۔“ یعنی اللہ کی خاطر جو نفس کا سوز اور گداز ہے جو اس سے بچنا چاہتے ہیں وہ ایک دوسری جہنم میں ڈالے جاتے ہیں۔ فرماتے ہیں: وو سلم ہے اور یہ اسلام ہے کہ جو کچھ خدا کی راہ میں پیش آوے اس سے انکار نہ کرے۔ اگر آنحضرت صلی الله السلام اپنی عصمت کی فکر میں خود لگتے تو وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدہ:68) کی آیت نہ نازل ہوتی۔ حفاظت الہی کا یہی سر ہے۔“ 66 (البدر جلد 1 نمبر 7 صفحہ : 52، 53 مؤرخہ 12 دسمبر 1902ء) یہاں عصمت سے مراد عصمت انبیاء (علیهم السلام ) نہیں ہے بلکہ جسمانی لحاظ سے غیر کے شر سے بچنا ایک عصمت ہے۔ فرمایا اگر رسول اللہ صلی الا السلام کو ہر وقت اپنی عصمت کی فکر ہوتی کہ میں غیر کے وار سے کیسے بچایا جاؤں تو یہ آیت نازل نہ ہوتی ۔ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۔ یہ سیح موعود علیہ السلام کا کلام آنحضرت صلی ا السلام کی سیرت کے جگمگاتے ہوئے حصہ پر عظیم روشنی ڈال رہا ہے۔ کبھی کسی : ہا ی عارف باللہ نے یہ بات نہ لکھی ہوگی۔ مجھے یقین ہے آپ تلاش کر کے دیکھ لیں ، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھی جو رسول اللہ صی تا ایلم کے سچے عاشق تھے۔ یہ آیت نازل نہ ہوتی يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ صاف پتا چلا ہے کہ خدا نے ضرورت محسوس فرمائی ہے کہ یہ نبی تو اپنی کچھ فکر نہیں کرتا ، ہر خطرہ میں کود پڑتا کہ ، نی تو ہے ۔ تمام مشکل مقامات میں آگے بڑھ جاتا ہے۔ اب ساری زندگی رسول اللہ صلی السلام کو آپ دیکھ لیں کیسے کیسے مواقع پر آپ صلی الی تم نے دشمنوں میں جا کر للکارا ہے کہ میں محمد ہوں آؤ اگر کسی کو قتل کرنا ہے تو مجھے قتل کر وہ کسی نے وار کرنا ہے تو مجھ پر وار کرے۔ یہ ساری زندگی کا خلاصہ آپ نے ان لفظوں میں نکالا ہے کہ آپ صلی السلام نے اپنی عصمت کی کبھی فکر نہیں کی اور جب رسول اللہ صلی السلام کو اس طرح خطرناک مقامات پر دلیر پایا اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آپ صلی الی تم نے اس کو للکارا ہے تو اللہ نے فرمایا وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۔ اے محمد صل الله المسلم ! تیرا خدا تیری حفاظت کرے گا۔ فرماتے ہیں : ” حفاظت الہی کا یہی ستر ہے۔“