خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 617 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 617

خطبات طاہر جلد 17 617 خطبہ جمعہ 4 ستمبر 1998ء سکتا ہے مگر وہ بے چارے بولتے تو نہیں مگر آنکھیں بتا دیتی ہیں، چہرہ بتا دیتا ہے کہ ان سے کیا ہوا ہے۔ تو چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جن میں رسول اللہ صل للہ اسلام کی اس نصیحت پر غور کرنے سے ان تک رسائی ہو جاتی ہے۔ فرمایا ہاتھ روک کر رکھو ۔ ، جب ہاتھ چلنے لگے اسی وقت روک لو پھر غور کرو پھر فکر کرو کہ کیا معاملہ ایسا تھا کہ اس میں تم ہاتھ اٹھاتے یا نہ اٹھاتے ۔ یہ چھ باتیں فرمائیں ، ان کا تم مجھ سے وعدہ کرو تو میں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔ اب بتائیں جنت کی ضمانت کے سوا اور کیا ضمانت ہو سکتی ہے ایسے شخص کو لیکن مرکزی نکتہ وہی ہے جو میں نے عرض کیا ہے کہ جڑیں سچائی میں ہیں اور بعض احادیث میں رسول اللہ صل الا السلام اس مضمون کو بھی کھولتے ہیں ۔ اب ایک اور بہت ہی دلچسپ اور بہت اہمیت رکھنے والا معاملہ ہے جس کو بسا اوقات سوسائٹی رض میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن سعد سے روایت ہے سنن ابی داؤد سے لی گئی ہے، کہ رسول اللہ صلی اله السلام نے فرمایا : قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑی امانت یہ شمار ہوگی ۔“ اب بڑی امانت کا لفظ سنتے ہی ذہن میں بہت سی بڑی بڑی امانات کا خیال گزرتا ہے لیکن آگے بات سنیں کیا ہو رہی ہے۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑی امانت یہ شمار ہوگی کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے اور بیوی اس سے تعلقات قائم کر چکے ہوں پھر وہ بیوی کے راز لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔“ (سنن أبی داؤد، كتاب الأدب، باب فى نقل الحديث ، حدیث نمبر :4870) اب یہ بڑی امانت کیوں ہے۔ اس لئے کہ اللہ کے حکم پر اسے یہ اجازت دی گئی تھی کہ ایک عورت سے خلا ملا کرے، اپنے فروج کی حفاظت والا مضمون پیش نظر رکھیں تو پھر اس کی سمجھ آئے گی ۔ یہاں ایک عورت نے اپنے بدن کو ایک غیر شخص کے لئے محض اس لئے کھولا کہ اللہ نے اجازت دی تھی اور اللہ کی امانت کا حق ادا کرنے والی تھی۔ اس کے اندرونی حسن تک کسی غیر کی رسائی نہیں تھی۔ پس یہ اس معنی میں بہت بڑی امانت بن جاتی ہے اس کے باوجود اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے راز مردوں کی مجالس میں یا کسی خاص دوست سے بیان کرتا پھرے کہ میری بیوی ایسی ہے اور ایسی ہے تو رسول اللہ صلی الا یہ کام فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن وہ ایک بہت بڑی امانت کا خائن شمار کیا جائے گا۔ اور جس کا نتیجہ جہنم ہے۔