خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 614 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 614

خطبات طاہر جلد 17 614 خطبہ جمعہ 4 ستمبر 1998ء فرمایا ایسا شخص بھی عملاً صدقہ دینے والے کی طرح صدقہ دینے والا شمار ہوگا ۔ اس سے زیادہ اور کیا تحریص ہو سکتی ہے۔ اپنے پلے سے کچھ بھی نہیں دینا پڑا اور جس کو صدقہ دیا صرف یہ شرط ہے بشاشت سے دو اور تم ویسے ہی ہو جاؤ گے جیسے صدقہ دینے والے نے صدقہ دیا۔ اسی طرح تم بھی اس صدقہ کے ثواب میں شریک ہو جاؤ گے۔ اب بشاشت سے دینے کا مضمون بھی خاص طور پر پیش نظر رہنا چاہئے ۔ اگر کسی کو کچھ دیا جائے اور منہ بسور کر دیا جائے ، ماتھے پر بل پڑے ہوئے ہوں تو اگر وہ سخت مجبوری کی وجہ سے لینے پر مجبور بھی ہو تو اس کا دل بہت دُکھی ہو جائے گا۔ وہ کہے گا میرے حالات کی مجبوری ہے میں لے تو رہا ہوں مگر اس شخص نے جس طریقہ پر دیا ہے لینے کو دل نہیں چاہتا۔ چنانچہ ایسے بھی میرے علم میں ہیں جن کو جب اس طرح دیا گیا تو انہوں نے واپس کر دیا اور یہ نہیں سوچا کہ یہ جو ان کو رقم مہیا کی جارہی تھی اس کی طرف سے نہیں تھی بلکہ میری طرف سے تھی لیکن یہ ان کی نفسیاتی مجبوری ہے۔ دینے والا ہاتھ نظر آ رہا ہے، دینے والے چہرے کو وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں اگر وہ پوری بشاشت سے نہ دے رہا ہو تو لازماً دل پر برا اثر پڑتا ہے۔ تو حضور اکرم صلی الها السلام نے یہ شرط لگا دی کہ پوری بشاشت کے ساتھ دو تا کہ لینے والے کا دل بھی راضی ہو ، وہ خوش ہو کہ مجھے خوش خوش ایک چیز دی جا رہی ہے۔ پس یہ بہت ہی بار یک رستے ہیں تقویٰ کے جن کا مضمون حضرت اقدس محمد مصطفی صلی لا الہ کام ہمیں سمجھاتے ہیں اور آپ صلی ال اسلام کے سوا اور کوئی اس طرح نہیں سمجھا سکتا۔ 66 رض وو ایک روایت عبادہ بن صامت سے لی گئی ہے ۔ ” عن عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ النَّبِيِّ ﷺ قال حضرت عبادہ بن صامت کی یہ روایت مسند احمد بن حنبل سے لی گئی ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صل اللہ الہ وسلم نے فرمایا : رض دو تم مجھے اپنے نفس سے چھ چیزوں کی ضمانت دو تو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا 66 ہوں ۔“ بہت ہی عمدہ سودا ہے، عظیم الشان سودا ہے۔ رسول اللہ صلی یم جس کو جنت کی ضمانت دیں ممکن ہی نہیں کہ اسے جنت نصیب نہ ہو اور یہ بات آنحضرت صلی اللہ اللہ ، اللہ کی منشاء کے بغیر بیان نہیں کر سکتے کیونکہ آپ صلی ہم تو جنتیں تقسیم کرنے والے نہیں تھے۔ اللہ نے آپ سالی کی تم کو جس چیز میں جتنا مختار بنایا تھا آپ صلی ای تیم اسی کی امانت کا حق ادا کرتے تھے۔ تو امانتوں کی گفتگو ہو رہی ہو اور ان