خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 612 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 612

خطبات طاہر جلد 17 612 خطبہ جمعہ 4 ستمبر 1998ء یہ وہ آیات تھیں جن کے تعلق میں میں نے اپنے خطبہ کو تشکیل دیا تھا۔ اسی تعلق میں ایک اور آیت بھی ہے یا چند اور آیات بھی ہیں سورۃ المومنون کی آیات 9 تا 12 ، ان میں بھی یہی مضمون ہے مگر کسی قدر فرق کے ساتھ۔ وَ الَّذِينَ هُمْ لِأَمْنَتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رُعُونَ : وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور عہدوں پر ہمہ وقت نگران رہتے ہیں ۔ وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ : اور جو لوگ اپنی نمازوں کی حفاظت اس طرح کرتے ہیں کہ وہ ان کی حفاظت کر رہی ہوتی ہیں ۔ آگے جو ایک آیت ہے یہ ؟ پیچھے جو مضمون ہے اس میں اضافہ کر رہی ہے۔ أُولَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ یہ جنت کو ورثے میں پائیں ۔ ہیں گے ۔ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوسَ هُمْ فِيهَا خُلِدُونَ : یہاں فردوس کا ذکر ہے مُكْرَمُونَ کا ذکر نہیں ہے یعنی مكْرَمُونَ کی جنت کا ذکر نہیں بلکہ فردوس کا ذکر ہے۔ اس لئے سرسری نظر سے پڑھنے والا دونوں کو ایک ہی مضمون سمجھ لیتا ہے حالانکہ ان دونوں میں فرق ہے۔ در فردوس بھی ایک بہت اعلیٰ درجہ کی جنت کا نام ہے مگر وار خُون کہہ کر یہ فرمایا کہ گویا وہ جنت کو ورثے میں پائیں گے۔ جیسے ورثے کا حق رکھنے والا لازماً سب سے زیادہ حق دار ہوتا ہے اس کا جو ورثہ چھوڑا گیا ہو۔ تو اولئِكَ هُمُ الْوَرِثُونَ یہ جنت کو ورثے میں پائیں گے۔ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوسَ جس کو فردوس ورثے میں ملے گی ۔ فردوس بھی ایک بہت اعلیٰ درجہ کی جنت کا نام ہے مگر مکرمون میں جس جنت کا ذکر ہے اس کا اور اس کا فرق ہے۔ مكْرَمُونَ والی جنت تو فردوس سے بھی بہت اعلیٰ درجہ کی ہے هُمْ فِيهَا خُلِدُونَ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے یا ہمیشہ رہنے والے ہونگے ۔ اب ان آیات کے تعلق میں جو میں نے چند احادیث حضرت اقدس محمد مصطفی صل اللہ السلام کی اختیار کی ہیں ان میں پہلی حديث مسلم، كتاب الزكوة ، باب أجر الخازن الأمين سے لی گئی ہے۔ یہ روایت حضرت ابو موسی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی السلام نے فرمایا کہ: وہ مسلمان جو مسلمانوں کے اموال کا نگران مقرر ہوا اگر دیانت دار ہے اور جو اسے حکم دیا جاتا ہے اسے صحیح صحیح نافذ کرتا ہے اور جسے کچھ دینے کا حکم دیا جاتا ہے اسے پوری بشاشت اور خوش دلی کے ساتھ اس کا حق سمجھتے ہوئے دیتا ہے تو ایسا شخص بھی عملاً صدقہ دینے والوں کی طرح صدقہ دینے والا شمار ہو گا ۔“ 66 (صحیح مسلم، کتاب الزكوة، باب اجر الخازن الامين، حدیث نمبر : 2363)