خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 598 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 598

خطبات طاہر جلد 17 598 خطبہ جمعہ 28 اگست 1998ء ع من عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ، أَنَّ هِرَ قُلَ قَالَ لَهُ : سَأَلْتُكَ مَاذَا يَأْمُرُكُمْ فَزَعَمْتَ : أَنَّهُ يَأْمُرُ بِالصَّلاةِ، وَالصِّدْقِ، وَالعَفَافِ، وَالوَفَاءِ بِالْعَهْدِ، وَأَدَاءِ الأَمَانَةِ، قَالَ: وَهَذِهِ 66 صِفَةُ نَبِي “ (صحیح البخاری، کتاب الشهادات، باب من أمر بأنجاز الوعد ، حدیث نمبر : 2681) میں نے اصل عبارت اس کی اس لئے پڑھی ہے کہ میری نظر پڑی ہے تو ہمارے کیا بیر سے آئے ہوئے بہت سے عرب دوست ہیں جن کو غالباً ترجمہ سننے میں دقت ہو گی تو اصل الفاظ عربی کے بھی اگر بیان کر دوں تو وہ خوش ہونگے اور اب میں نے دیکھا ہے تو واقعی ان کے چہرے کھلکھلا اٹھے ہیں کہ حدیث کے اصل عربی الفاظ ان کے سامنے رکھ رہا ہوں ۔ اب اس کا ترجمہ یہ ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ مجھے ابوسفیان نے بتایا تھا۔ ابوسفیان اس وفد میں شامل تھا جو عربوں نے ہر قل کی طرف بھیجوایا تھا ۔ وہ کہتے ہیں مجھے ابوسفیان نے بتایا تھا کہ ہر قل نے انہیں کہا کہ میں نے تجھے یہ پوچھا تھا کہ محمد تم کو کس چیز کا حکم دیتے ہیں ۔ دراصل ہر قل نے آنحضرت اسال الله السلام کے متعلق پوچھا اور اس کا مقصد یہ تھا مگر ابو سفیان نے بات کو ٹالا ۔ اس نے کہا ہمارا اور ان کا معاملہ تو ایسا ہی ہے کبھی وہ اوپر آگئے کبھی ہم اوپر آگئے ۔ یہ اونچ نیچ آپس میں ہوتی رہتی ہے۔ ہر قل نے کہا میں نے یہ نہیں پوچھا، میں نے یہ پوچھا تھا کہ تمہیں حکم کس بات کا دیتا ہے۔ اس پر مجبور ہو کر اس نے یہ دیا کہ وہ نماز کا حکم دیتا ہے، وہ سچائی کا حکم دیتا ہے، وہ پاکدامنی کا حکم دیتا ہے، عہد پورا کرنے کا جواب دیا حکم دیتا ہے اور امانتیں ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اب یہ ایک ایسی بات ہے جو بالکل واضح اور قطعی ہے۔ آنحضرت صلی الہ الہام نے تمام عمر ان چیزوں کے سوا حکم ہی کوئی نہیں دیا اور ابوسفیان یہ بتانے پر مجبور ہو گیا۔ اس پر ھر قل نے یہ پتے کی بات کہی کہ یہی تو ایک نبی کی صفت ہے۔ یعنی دنیا میں ہر نبی انہی چیزوں کا حکم دیتا ہے اور جھوٹے کو یہ نصیب نہیں ہوا کرتا۔ اب اس بات کو اگر آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شناخت بنا کر دیکھیں تو دنیا جہان کے علماء ایک طرف ہو کر حضرت مسیح موعود کی تکذیب کریں ، ہر احمدی گواہی دے گا کہ تم جھوٹے ہو کیونکہ نبیوں کی بنیادی صفات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام میں موجود ہیں اور انہوں