خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 594
خطبات طاہر جلد 17 594 خطبہ جمعہ 28 اگست 1998ء لئے پیش آتی ہے کہ امانت کے تعلق میں ابھی جماعت کو بہت کچھ سمجھانے اور بار بار یاد دہانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ بار بار ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ امانت کے معاملہ میں یا پیچھے ہٹ جاتے ہیں یا امانت کی باریکیوں کو سمجھتے نہیں اور نفس ان کو اس معاملہ میں دھوکا دے دیتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق فذكرْ إِنْ نَفَعَتِ الذِّكرى ( الاعلى : 10) مجھے بھی ان امور کی بار بار نصیحت کرنی پڑتی ہے۔ اس مضمون کو میں نے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی السلام کی بہت سی احادیث سے سجایا ہے کیونکہ حضور اکرم صلی السلام نے امانت کے باریک ترین پہلوؤں پر بھی مختصر الفاظ میں روشنی ڈالی ہے۔ پہلی لی ۔ حدیث جو میں نے اس مضمون کے لئے چنی ہے وہ مسند احمد بن حنبل سے لی گئی ہے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی الا السلام نے ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا یا خطاب کرتے ہوئے ہمیشہ یہ فرمایا : وو لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةً لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ ۔ (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة، مسند انس بن مالك ، مسند نمبر : 12383) کوئی یعنی ” جو شخص امانت کا لحاظ نہیں رکھتا اس کا ایمان کوئی ایمان نہیں اور جو عہد کا پاس نہیں کرتا اس کا دین نہیں ۔ تو یہ معاملہ جو امانت کا معاملہ ہے بہت گہری اہمیت رکھتا ہے۔ ان دو لفظوں میں اس سے بہتر امانت کی اہمیت نہیں سمجھائی جا سکتی تھی کہ امانت کے نتیجے میں ہی انسان عہد پورا کیا کرتا ہے اور عہد پورا کرنے والا ہو تو وہ ضرور امین ہوگا ۔ یہ دو باتیں لازم و ملزوم ہیں اور دین کا خلاصہ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امانت کو حضرت اقدس محمد مصطفی صل اللہ السلام کے سپرد فرمایا کیونکہ یہ دونوں باتیں آپ سال یا اسلام میں بدرجہ اتم موجود تھیں امانت کا سب سے زیادہ حق ادا کرنے والے اور اپنے عہد کو سب سے زیادہ پورا کرنے والے۔ پس یہ دو باتیں اگر جماعت میں رائج ہو جائیں تو جو زندگی کا مقصد ہے وہ پورا ہو جائے گا اور اگر یہ باتیں رائج نہ ہوں تو زندگی بے کار ہے، اس کا کوئی مقصد نہیں رہتا۔ یہ جو بنیادی نکتہ ہے اس کی تفصیل میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی السلام نے بہت سی نصیحتیں کی ہیں تا کہ بات کو مختلف پہلوؤں سے کھولا جائے۔ چنانچہ مسند احمد بن حنبل ہی سے ایک اور حدیث لی گئی ہے جس میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی لا السلام نے فرمایا کہ: