خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 587
خطبات طاہر جلد 17 587 خطبہ جمعہ 21 اگست 1998ء انسان چونکہ ناقص اور ثواب حاصل کرنے کے لئے اعمال صالحہ کا محتاج ہے اس لئے کبھی وہ تواضع اور تذلیل کے طور پر اپنے خدا کو خوش کرنے کے لئے اپنے آرام پر دوسرے کا آرام مقدم کر لیتا ہے اور آپ ایک حظ سے بے نصیب رہ کر دوسرے کو وہ حظ پہنچاتا ہے۔“ یعنی ایثار کی سچی تعریف یہ ہے کہ خدا کی رضا کی خاطر ، اپنے خدا کو خوش کرنے کے لئے، اپنے آرام پر دوسرے کا آرام مقدم کر لیتا ہے۔ یہ زندگی بھر کا معاملہ ہے اور آپ ایک حظ سے بے نصیب رہ کر ، ایک لطف سے بے نصیب رہ کر دوسرے کو وہ لطف پہنچاتا ہے۔ اب جو لطف ہے اس میں دونوں پہلو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائے ہیں ۔ ایک لطف اس نے دوسرے کے لئے مہیا کیا مگر وہ ایسا لطف نہیں ہے جو مہیا کرے اور اپنے لطف میں کمی نہ آئے ۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام جب ایثار کی بات کرتے ہیں تو بے حد بار یک نظر سے گفتگو فرماتے ہیں۔ اگر بار یک نظر سے آپ کی باتوں کا مطالعہ نہ کیا جائے تو آپ کو صحیح پیغام مل ہی نہیں سکتا۔ ایثار کا مطلب ہے کچھ چھوڑنا اور اسے دوسرے کی طرف منتقل کرنا۔ یہ فقرہ کہ : ” ایک حظ سے بے نصیب رہ کر دوسرے کو وہ حظ پہنچاتا ہے ۔ یہ ایثار کی تعریف میں لازم ہے ۔ جو حظ آپ غیر کو پہنچارہے ہیں اس سے خود بے نصیب ہو رہے ہیں ۔ مثلاً ایک دوست مہمان آتے ہیں آپ سے ملنے کے۔ کے لئے تشریف لاتے ہیں، آپ اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر جتنی دیر ان کے پاس بیٹھے رہتے ہیں ایک حظ سے محروم ہو رہے ہیں اور اس کے پاس بیٹھنے کے نتیجہ میں اپنا حظ جو بیوی بچوں میں آپ کو حاصل ہونا تھا وہ اس کو پہنچار ہے ہیں کہ اسے آپ کو ملنے کی خواہش ہے تو یہ حقیقی ایثار ہے۔ 66 آپ ایک حظ سے بے نصیب رہ کر دوسرے کو وہ حظ پہنچاتا ہے تا اس طرح پر اپنے خدا کو راضی کرے اور اس کی اس صفت کا نام عربی میں ایثار ہے۔ (پھر فرمایا :) ظاہر ہے کہ یہ صفت کو عاجز انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے لیکن خدا کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی ۔ 66 اب یہ پہلو بھی بہت اہم ہے کہ اگر چہ ایثار انسان کو زیب دیتا ہے بلکہ اتنا زیب دیتا ہے کہ ایثار کے رانسان کوئی روحانی ترقی کر ہی نہیں سکتا ، خدا سے مل ہی نہیں سکتا اگر ایثار نہ ہولیکن یہ صفت محمودہ بغیر