خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 578 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 578

خطبات طاہر جلد 17 578 خطبہ جمعہ 21 اگست 1998ء ہر شخص کو آخر بڑھاپا پہنچنا ہے اور اسی حالت میں جو اس سے مختلف امکانی سلوک ہو سکتے ہیں ان کا قرآن کریم میں تفصیل سے ذکر ہے مگر بڑھاپے سے کوئی انسان بچ نہیں سکتا ۔ اگر جوانی کی عمر سے گزرے گا تو بڑھاپے کی عمر ضرور دیکھے گا ۔ فرمایا اس کا کوئی علاج نہیں باقی سب چیزوں کا علاج ہے۔ اس بناء پر بعض صحابہ نے یہ بھی خواہش کی کہ ہم تو خاموش بیٹھے رہیں مگر ہماری موجودگی میں کوئی بدوی آجائے اور وہ سوال کرے اور اس رنگ میں ہماری تربیت ہو جائے ۔ آنحضور صل اللہ الہ سلم کا چہرہ دیکھ کر جو صحابہ پہچانتے تھے کہ یہ جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا ان میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تو تھے۔ پس یہ خیال کرنا کہ چہرہ دیکھنا گو یا ممنوع تھا یہ درست نہیں ہے۔ چہرہ دیکھنے کا بھی انداز ہوا کرتا ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ آپ آنحضور صلیھا السلام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ٹکٹکی لگا کر، گھورتے ہوئے دیکھیں۔ یہ ناممکن ہے اور یہ بھی ناممکن ہے کہ آپ کی نظریں آپ صلی السلام کے چہرے پر نہ پڑیں۔ اس لئے ان دونوں باتوں کے درمیان اعتدال کی ضرورت ہے اور سب لوگ اپنی عادتوں میں یہ اعتدال پیدا کریں۔ رض اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی روایات چونکہ ہمارے قریب کی روایات ہیں اور تحریروں میں میں بھی محفوظ ہیں اس لئے آ لئے آنحضور صلی الہ السلام کے زمانہ میں جو آداب ہوا کرتے تھے اور جس طرح مختلف صحابہؓ اپنے اپنے رنگ میں آنحضور صل اللہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ان میں یہ بھی ایک رنگ تھا کہ بعض صحابہ سوال کیا کرتے تھے ، ضروری نہیں کہ بدوی ہو۔ چنانچہ کثرت سے روایات ملتی ہیں کہ آنحضور صلی الم السلام سے بعض مقامی صحابہؓ بھی سوال کرنے کی عادت رکھتے تھے اور اس بات کو آنحضور صلی السلام نے کبھی نا پسند نہیں فرمایا بلکہ بعض موقعوں پر آپ صلی اس کی تم نے پوچھا اور بار بار پوچھا کہ خاموش بیٹھے ہو مجھ سے کوئی سوال کرو۔ پس یہ تصور قائم کرنا درست نہیں کہ صرف بدویوں پر لوگ بیٹھے رہتے تھے کہ وہ آئیں تو سوال کریں۔ سوال کرنے کی عادت تھی بعض لوگوں کو اور رسول اللہ صلی الہا کی ہم نے ان کو بند نہیں کیا۔ صرف اتنا فرمایا کرتے تھے کہ ضرورت سے زیادہ سوال نہ کیا السلام کرو کیونکہ ہو سکتا ہے بعض سوالوں کے جواب میں تم پر تنگی عائد ہو جائے ۔ اب یہی رنگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں ملتا ہے۔ ہر ایک اپنے مزاج کے مطابق اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے۔ دو صحابہ نمونے کے طور پر میں نے چنے ہیں۔ ایک حضرت حکیم نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔