خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 47

خطبات طاہر جلد 17 47 خطبہ جمعہ 16 جنوری 1998ء روزے رکھنا منع ہیں یعنی ایسا نہیں چاہئے کہ آدمی ہمیشہ روزے ہی رکھتا رہے بلکہ ایسا کرنا چاہئے کہ نفلی روزے کبھی رکھے اور کبھی چھوڑ دے۔“ ( بدر جلد 6 نمبر 43 صفحہ : 3 مؤرخہ 24 اکتوبر 1907ء) اب رمضان کے آنے پر کتنے دل خوش ہوتے ہیں اور کتنے دل غمگین : ملین ہوتے ہیں یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں ہر انسان جو اپنا جائزہ لے گا اس کو محسوس ہوگا کہ رمضان کے آنے پر ویسی خوشی نہیں ہوتی شروع میں جیسی کہ رمضان کے آنے کا حق ہے بلکہ لوگ گھبراتے ہیں اور ڈرتے ہیں۔ پس اس عبارت کو سننے کے بعد یہ خیال نہ کریں کہ وہ منافقین ہیں ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بوجھ اٹھانے سے پہلے دل میں خوف ضرور پیدا ہوتا ہے اور انسان رمضان میں داخل ہونے سے پہلے ڈرتا ہے کہ میں اس کے تقاضے پورے کر سکوں گا یا نہیں کر سکوں گا پھر اللہ تعالیٰ اس کے تقاضے آسان فرما دیتا ہے۔ اس لئے جب میں یہ عبارت پڑھوں گا تو بعض لوگ ڈر کے یہ نہ سمجھیں کہ ان کی حالت منافقانہ ہے۔ نَعُوذُ بِالله من ذالك كيونكہ عام دستور ہے کہ ہمیشہ رمضان کی ذمہ داریوں کا خوف ، رمضان کی آمد کے وقت شروع ہو جاتا ہے اور انسان شروع میں کچھ گھبراتا ہے کہ دیکھوں مجھ پر کیا گزرے گی لیکن اللہ تعالیٰ سچے بندوں کے لئے رمضان کو آسان فرما دیتا ہے اور پھر بشاشت کے ساتھ انسان رمضان میں سے گزر جاتا ہے۔ اس تمہید کے بعد میں آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ اقتباس پڑھتا ہوں ۔ تا وہ شخص جس کا دل اس بات سے خوش ہے کہ رمضان آ گیا اور اس کا منتظر میں تھا کہ آوے اور روزہ رکھوں اور پھر وہ بوجہ بیماری کے نہیں رکھ سکا تو وہ آسمان پر روزے سے محروم نہیں ہے۔“ جو شخص اس بات پر خوش ہے کہ رمضان آگیا اور میں اس کا منتظر تھا اگر بیماری اس کے راستہ میں حائل ہو جائے وہ روزہ نہ رکھ سکے تو آسمان پر روزے سے محروم نہیں ہے لیکن : اس دنیا میں بہت لوگ بہانہ جو ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جیسے اہلِ دنیا کو دھوکا دے لیتے ہیں ویسے ہی خدا کو فریب دیتے ہیں۔ بہانہ جو اپنے وجود سے آپ مسئلہ تراش کرتے ہیں اور تکلفات شامل کر کے ان مسائل کو صحیح گردانتے ہیں ۔“