خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 546
خطبات طاہر جلد 17 546 خطبہ جمعہ 7 اگست 1998ء - تھا یا شہید کر دیا گیا یا زندہ آگ لگانے کی کوشش کی گئی ۔ بہت بڑی بڑی تکلیفیں سیرالیون کے احمد یوں نے دیکھی ہیں جو ایسے حادثات سے تعلق رکھتی ہیں جو ملکی تغیرات کے نتیجے میں پیدا ہوئے اور اس کی کوئی سرخ کتاب نہیں رکھی گئی۔ اس لئے میں سیرالیون کے مبلغ کو خاص طور پر جو امیر ہے اس کو دوسرے امور میں کتاب رکھنے کے علاوہ اس طرف بھی توجہ دلاتا ہوں ۔ تمام جائزہ مکمل کریں ۔ ایک بھی حادثہ ایسا نہ ہو جسے نظر انداز کیا جائے ۔ وہ کیوں ہوا تھا ، کیا حکمت کی باتیں نظر انداز کی گئیں، بچنے کا وقت کونسا تھا ، اس وقت اس ، اس کو استعمال کیوں نہ کیوں نہ کیا گیا ۔ اب یہ جو صورت حال ہے جیسا کہ میں عرض کر رہا ہوں اللہ تعالیٰ مجھے توفیق عطا فرماتا ہے اس الہی تعلیم کی پیروی میں بہت سے نقصانات سے جماعت کو بچانے میں مجھے اللہ تعالیٰ کی مدد سے توفیق مل جاتی ہے۔ اب گئی بساؤ ( Guinea-Bissau) میں حالات خراب ہوئے ۔ گنی کوناکری (Conakry) جو اس سے ملتا ہے وہاں نسبتاً حالات بہتر تھے ۔ ہمارے مبلغین نے ہمیں یہ لکھنا شروع کیا کہ ہم جس علاقے سے نکل گئے ہیں وہاں فساد کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں اور اس علاقے میں امن ہے۔ پھر اور آگے بڑھے کہ اب بھی فساد پیچھے رہ گیا اس علاقے میں امن ہے۔ پھر گنی کوناکری کے بارڈر پر پہنچے اور کہا اب ہم یہاں ٹھہر سکتے ہیں ۔ جب یہ باتیں وکیل التبشیر نے میرے سامنے رکھیں میں نے کہا انتہائی خطرناک غلطی کر رہے ہیں۔ جب فساد پھیلتے ہیں تو ضروری نہیں کہ جس طرف سے آرہے ہیں آپ کو دکھائی بھی دے رہے ہوں ۔ وہ گھیرا ڈال لیا کرتے ہیں اور اس گھیرے کو توڑنا پھر آپ کے بس میں نہیں رہے گا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اچھا ہم گنی کو نا کری میں جا کر جو الگ ملک کا بارڈر ہے وہاں انتظار کرتے ہیں۔ میں نے کہا ہرگز یہ نہیں ہونا کیونکہ اگر گنی کوناکری جاکے انتظار کرو گے تو وہ بھی محفوظ نہیں ہے کیونکہ جو شرارت کی خبریں مجھے مل رہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی حملہ ہوگا ۔ اس لئے سینیگال میں چلے جاؤ ۔ ایک ہی محفوظ جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جب وہ سینیگال چلے گئے تو پیچھے شرارت نے سر اٹھا لیا تب ان کو سمجھ آئی کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کا ایک نگران ہے اس کو اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرماتا ہے کہ وہ باریک باتوں پر بھی نظر رکھے اور باریک باتوں پر نظر رکھنے کے نتیجے میں کبیرہ سے نجات مل جاتی ہے، بہت بڑے بڑے خطرات سے اللہ تعالیٰ ہمیں بچالیتا ہے۔ تو یہ پہلو بھی جیسا کہ سیرالیون کے حوالہ سے میں نے شروع کیا تھا