خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 543
خطبات طاہر جلد 17 543 خطبہ جمعہ 7 اگست 1998ء - پس جماعت احمدیہ کے نظام کو مکمل کرنے کے لئے اور آئندہ حسین سے حسین تر بنانے کے لئے اس سرخ کتاب کو رواج دینا اور اس تفصیل سے رواج دینا جس تفصیل سے میں نے بیان کیا ہے انتہائی ضروری ہے ۔ اس تعلق میں انفرادی طور پر بھی لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اپنے اپنے گھروں میں اگر ایک چھوٹی سی کتاب رکھ لیں اس میں عموماً آئے دن خرابیاں ہوتی رہتی ہیں ۔ مثلاً بچوں کو چوٹ لگ جاتی ہے اور بعض دفعہ چھوٹی سی غلطی سے بہت سخت چوٹ لگ جاتی ہے تو ان کا فرض ہے یعنی میں سمجھتا ہوں کہ ان پر جماعتی طور پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جس طرح جماعت کی خرابیوں پر ہم نظر رکھتے ہیں کہ دوبارہ نہ آئیں وہ بھی ان خرابیوں پر نظر رکھیں تا کہ بے وجہ دوبارہ تکلیف میں مبتلا نہ ہوں ۔ بعض لوگوں کے اکلوتے بچے ان کی ایسی غلطی کے نتیجے میں مر گئے جس کو رفع کیا جا سکتا تھا ازالہ تو بعد میں ہونا تھا اگر وہ محنت کرتے تو کوئی ضرورت نہیں تھی کہ وہ واقعہ ہو جاتا ۔ اب اکلوتا بیٹا اگر مر جائے اور اپنی غلطی سے ہو تو ساری عمر انسان دکھ محسوس کرتا ہے یہ زندگی بھر کا روگ ہے جو اس کو لگ جاتا ہے، کبھی پیچھا ہی نہیں چھوڑتا۔ اور گھر کی سرخ کتاب میں اگر یہ درج ہو کہ یہاں جتنے بھی ہمارے بچوں کے حادثات ہوئے ہیں اس وجہ سے ہوئے ہیں بعض دفعہ سیڑھیوں کی کوئی خرابی ہوتی ہے اور حادثہ ہو گیا اور اس کو بھول گئے ۔ جب تک سیڑھیوں کی اس خرابی کا ازالہ نہ کیا جائے اس وقت تک آئندہ حادثات کی روک تھام ہو ہی نہیں سکتی۔ چنانچہ اس ضمن میں میں نے اپنے ہالینڈ کے گھر میں بھی توجہ دی اور مجھے معلوم ہو گیا کہ اس خرابی کی وجہ سے بچہ گر کر نقصان اٹھا سکتا ہے۔ اللہ کے فضل سے کوئی بچہ گر انہیں مگر مجھے دکھائی دے رہا تھا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے لازما بچہ گر سکتا ہے اور بعض دفعہ اتنی خطرناک اس کو چوٹ آسکتی ہے کہ وہ ساری عمر کے لئے معذور ہو جائے چنانچہ سیڑھیوں کی درستی کرائی گئی ۔ وہ کارپٹ جو اس پر بچھایا گیا تھا وہ ڈھیلا ڈھیلا اس کو ٹھیک کروایا گیا اور درستی که گئی۔ وہ تھاوہ یہی صورت حال تحکیم میں بھی دوہرائی گئی۔ وہاں بھی جن سیڑھیوں سے میں اوپر جاتا اور نیچے آتا تھا میں تو احتیاط کر لیتا تھا مگر بچوں کے متعلق یہ خطرہ تھا کہ وہ قالین کے پھسلنے سے ٹھوکر کھا کر گر جائیں گے اور اس صورت میں وہ سیڑھیاں اس طرح کی تھیں کہ بہت گہرا نقصان پہنچ سکتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ ان چیزوں کی پیش بندی ہوگئی مگر بنیادی بات یہی ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کے نتیجے میں یہ توفیق مل گئی۔ جتنی باتیں میں کر رہا ہوں یہ قرآنی تعلیم کی روشنی میں ہیں اور قرآنی تعلیم کو اگر آپ