خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 541
خطبات طاہر جلد 17 541 خطبہ جمعہ 7 اگست 1998ء ایک چھوٹی سی چیز معمولی سی احتیاط سے اس کا ازالہ ہو سکتا ہے لیکن اگر نہ ہو تو جیسا کہ اس جلسہ پر ہوا ایک ہیلی کاپٹر ان کا ضرور آخر پر چکر لگاتا ہے اور تصویر لیتا ہے ہر چیز کی اور پھر جس شعبہ کو بھی اس نے رپورٹ کرنی ہو اس کو رپورٹ کرتا ہے اور اگر جماعت کے انتظام میں کوئی خرابی دیکھے یا اس قسم کا گند دیکھے تو لازماً اس کا بداثر آئندہ انتظامیہ سے ہمار انتظامیہ سے ہمارے تعلقات پر قات پر پڑے گا۔ وہ کہیں گے تم لوگ ہمیشہ گند کرتے ہو اور ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں۔ وہ ہیلی کاپٹر کی کھینچی ہوئی تصویریں ہمیں دکھا سکتے ہیں۔ تو بظاہر چھوٹی بات ہے لیکن نتیجے کے لحاظ سے کبیرہ بن جاتی ہے۔ چنانچہ اللہ نے بہت فضل فرمایا کہ ان خرابیوں کے دوران میری توجہ اس طرف بھی مبذول ہوئی اور میں نے رفیق حیات صاحب کو اس بات پر مقرر کیا کہ وہ فوری طور پر تمام گند دور کرنے کا انتظام کروائیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مستعد ہیں کہ انہوں نے چند گھنٹوں کے اندر اندر مکمل طور پر وہ گند دور کروادیا۔ ایک ذرہ بھی اس کا وہاں باقی دکھائی نہیں دیتا تھا اور جب ہیلی کا پڑ آیا ہے تو اس وقت تک سب صاف ہو چکا تھا۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کے احسانات ہیں۔ چھوٹی چھوٹی تو جہات دوسرے امور ے امور کی طرف ذہن کو منتقل کرتی ہیں او ان کے نتیجے میں خدا کے فضل کی اور راہیں کھلتی ہیں۔ تو جماعت جرمنی کو وہاں بھی یا درکھنا چاہیئے کہ ان کو بھی اپنی ایک سرخ کتاب بنانی ہے اس کتاب میں تمام قسم کی خرابیاں ، کھانے پینے کی ہر قسم کی خرابیوں کا ذکر ہو اور اس میں جو بہتری کے اقدامات کئے گئے ہیں وہ درج ہوں۔ اور یہاں مہمانوں کے تعلق میں بہت سی ایسی خرابیاں سامنے آئیں جن کی طرف جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے پہلے توجہ نہیں تھی۔ توجہ ہوئی تھی اور بھلا دی گئی تھی ۔ اب اگر کوئی کتاب ہوتی تو بھلا دینے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ مثلاً آپ کے علم میں میں لا رہا ہوں کہ بیرونی معززین کے لئے کھانے کا انتظام کبھی پہلے افسر جلسہ کے سپرد نہیں ہوا کرتا تھا کیونکہ وہ عمومی ذمہ داری کو ادا کرنے کے دوران اس کی طرف الگ تو جہ دے ہی نہیں سکتے ۔ ہمارا طریق یہ تھا جو باقاعدہ یہاں نافذ ہو چکا تھا لیکن سرخ کتاب کے نہ ہونے کی وجہ سے نظر انداز ہو گیا ۔ وہ طریق یہ تھا کہ ایک خاص افسر برائے مہمان نوازی وی آئی پی (VIP) مقرر ہوا کرتا تھا جو ان کی رہائش کی جگہ میں ہر قسم کے کھانے تیار کرنے کا انتظام کرتا تھا۔ پہلے ان لوگوں کو ان کے ملکوں میں چٹھیاں لکھی جاتی تھیں کہ آپ ہمارے معزز مہمان ہیں۔ ہمیں رسول اللہ صلی لا السلام کی یہ نصیحت ہے کہ ہر مہمان سے اس کی ضرورتوں کے مطابق سلوک کرو