خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 529
خطبات طاہر جلد 17 529 خطبہ جمعہ 31 جولائی 1998ء فرمایا لوگ اپنی زبانوں کی کائی ہوئی کھیتیوں یعنی اپنے برے بول اور بے موقع باتوں کی وجہ سے ہی جہنم میں اوندھے منہ گرتے ہیں۔ اب یہ ایک بہت ہی بڑی تنبیہ ہے اور لغو باتیں کرنے والوں کو اپنی زبان پر نگران ہونا پڑے گا۔ بسا اوقات مذاق مذاق ہی میں کوئی ایسی بات منہ سے نکل جاتی ہے جو گستاخی ہوتی ہے۔ بعض دفعہ ایک چھوٹا ساکلمہ ، حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی السلام کی ایک اور حدیث کے مطابق ، ایک ایسے شخص کو جو جنت کے قریب پہنچ چکا ہو اس سے اتنا دور کر دیتا ہے کہ وہ جہنم میں جا گرتا ہے یعنی زبان پر مکمل اختیار تو سب کو ممکن نہیں مگر اگر اللہ چاہے اور یہ توجہ ہو اور انسان نگران رہے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور پہلے تو لے پھر منہ سے بولے تب انشاء اللہ تعالیٰ آپ کو یہ توفیق مل سکے گی لیکن اس میں دقت یہ ہے کہ بعض قو میں اپنی عادات کے مطابق بہت تیز بولتی ہیں خاص طور پر اہل یوپی اور اہل یوپی کی عورتیں تو فرفر باتیں کرتی ہیں کیا ان کی زبان کے کہنے میں بھی وہ پکڑے جائیں گے ۔ اس سلسلہ میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اسلام کا ایک خوشخبری کا فرمان یہ ہے جو قرآن کریم کی آیت کریمہ کے تابع ہے کہ اللہ تم سے تمہاری لغو قسموں کے متعلق کچھ نہ پوچھے گا۔ زبان کو جہاں تک ممکن ہوتا ہو میں رکھ لیکن جہاں فرفر بولنے کی عادتیں ہیں وہاں تو غلطی سے کلمہ ادھر اُدھر ہو بھی جائے تو استغفار سے کام لولیکن بعد میں ضرور سوچوتا کہ پیشتر اس کے کہ اللہ کی پکڑ آجائے تمہیں احساس ہو جائے کہ مجھ سے غلطی ہو چکی ہے اور پھر استغفار کر کے آئندہ غلطی کا اعادہ نہ کرنے کا عہد کرو۔ یہی ہے جو میں اس پیغام سے سمجھا ہوں اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ میں نے درست سمجھا ہوگا ۔ حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ عِنْدَكَ قَالَتْ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَائِهِ: يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا لأَكْثَرِ دُعَائِكَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ قَالَ: يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِنَّهُ لَيْسَ آدَمِيٌّ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللهِ، فَمَنْ شَاءَ أَقَامَ ، وَمَنْ شَاءَ أَزَاغَ ا (سنن الترمذي، أبواب الدعوات، باب دعاء : يا مقلب القلوب ۔۔۔ حدیث نمبر : 3522)