خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 510 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 510

خطبات طاہر جلد 17 510 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء مجھے اس روایت کے بیان کرنے سے بعض باتیں مقصود ہے باتیں مقصود ہیں ۔ اول یہ کہ قطع نظر اس کے کہ میں علیل ہوں یا نہ ہوں میں ہمیشہ یہ پوری کوشش کرتا ہوں کہ آنے والے مہمانوں کی خاطر ان کے لئے ملاقات کا وقت نکالوں لیکن اللہ کا فضل ہے کہ میں علیل نہیں ہوں لیکن اس کے باوجود لوگ سمجھتے ہیں کہ میری ہمدردی زیادہ لیں گے اس بات پر کہ اگر وہ غور سے مجھے دیکھیں کہ کوئی علالت کی علامت ان کو دکھائی دے جائے اور اس پر وہ پر وہ کہیں کہ او ہو آپ تو علیل ہیں۔ یہ طریق نا مناسب ہے ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام علیل تھے بھی ، ہوتے بھی تھے تو کوئی نہیں کہا کرتا تھا کہ آپ علیل لگ رہے ہیں ۔ تو اخلاق حسنہ کا یہ تقاضا ہے تب ہی میں بار بار جماعت کو سمجھاتا ہوں کہ بعض لوگ تو اس طرح گہری اترنے والی نگاہوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ ان نگاہوں سے بھی گھبراہٹ ہوتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کوئی علامت مل جائے جس پر وہ اپنی ہمدردی کا ا پر وہ اپنی ہمدردی کا اظہار کر سکیں اور اگر وہ علام علامت نہ ملے تو پھر صحت کے متعلق لا زما ذ کر شروع کر دیتے ہیں۔ بھئی اپنی ملاقات کرو، اپنے کام سے کام رکھو، اپنی صحت کے متعلق دعا مانگنے کی درخواست ۔ درخواست بے شک کرو مگر میرے معاملہ میں مہربانی فرما کر دخل نہ دیا کرو کیونکہ اس سے مجھے الجھن پیدا ہوتی ہے۔ میں جب حاضر ہوں، ہر حال میں حاضر ہوں ، بیمار ہوں تب بھی حاضر ہوں تو پھر آپ کا کیا حرج ہے۔ میری بیماری کو مجھ پر اور میرے خدا پر چھوڑ دیں اگر کوئی ہو لیکن میں آپ کو یقین دلا رہا ہوں کہ مجھے کوئی بیماری نہیں ہے، میں بالکل ٹھیک ہوں اور پہلے سے بہت بہتر ہوں ۔ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آج کل جو میں اپنے اوپر محنت کر رہا ہوں وہ خاص قسم کی غذا کھاتا ہوں ، خاص غذاؤں سے پر ہیز کرتا ہوں اور اس کے علاوہ سیر میں بہت باقاعدگی کرتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ میری سیر کے دوران جو پہلے ایک گھنٹے کی ہوا کرتی تھی میں نے محسوس کیا ہے کہ از خود مجھ میں طاقت آگئی ہے اور میں وہی گھنٹے کی سیر پینتالیس منٹ میں کر لیتا ہوں۔ بعض دفعہ اس سے بھی کم اور بعض دفعہ میرے ساتھیوں کو دوڑنا پڑتا ہے۔ تو یہ وہ اس زمانے کی باتیں ہیں جب نیا تھا میں میں نیا نیا یہاں آیا تھا اور دن بدن اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس میں بہتری ہو رہی ہے تو جب خدا نے اتنا احسان فرمایا ہے تو کیا ضرورت ہے آپ کو دخل اندازیوں کی۔ میں خدا کے فضل سے بالکل ٹھیک ہوں۔ اب بعض دفعہ مجھے کھانسی بھی ہو جاتی ہے تھوڑی سی ، آپ کو یاد ہونا چاہئے کہ حضرت مصلح موعود کو