خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 505 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 505

خطبات طاہر جلد 17 505 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء رض ایک اور حدیث عبداللہ بن طحفہ" کی طرف سے روایت ہے مسند احمد بن حنبل سے لی گئی ہے۔ عبد الله بن طحفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : دو جب آنحضرت صلی الا السلام کے پاس کثرت سے مہمان آنے لگے تو آپ صلی لا السلام فرمایا کرتے تھے کہ ہر کوئی اپنا مہمان لیتا جائے ۔“ یہ وہ حدیث نہیں ہے جو میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں اس سے ملتی جلتی یہ حدیث ہے کیونکہ یہ آئے دن واقعہ پیش آیا کرتا تھا یہ روز کا دستور تھا ، ہر وقت آنے والے مہمان آیا کرتے تھے اور آنحضرت مصلی اسلام یہی فرمایا کرتے تھے کہ جس کے پاس توفیق ہے وہ اپنا اپنا مہمان لیتا جائے ۔ عبد اللہ بن طخفة بیان کرتے ہیں کہ : رض میں ان میں تھا جو آنحضرت صلی شما ای ایم کے ساتھ گئے تھے۔ جب آپ مالی ما کی ستم گھر پہنچے۔“ یہ گئے سے مراد ہے کہ ایک موقع پر مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے مہمان لے جانے والے کم رہ گئے تو آنحضرت صلی لا الہ ہم اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے اور عبد اللہ بن طحفہ کہتے ہیں میں بھی آپ صلی الا یہ ستم کے ساتھ تھا۔ - حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کیا گھر میں کھانے کو کچھ ہے۔ انہوں نے کہا جی ہاں - حويسة ( کوئی عرب کھانا ہے ) جو میں نے آپ صلی للہ السلام کے افطار کے لئے تیار کیا ہے۔ ( یعنی آنحضور صلی للہ اکلیلیم روزے سے تھے ) راوی کہتا ہے حضرت رسول اللہ صلی له السلام نے جب فرمایا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہ کھانا ایک برتن میں ڈال کر لائیں اس میں سے رسول اللہ صلی لا الہ سلیم نے تھوڑا سا لیا اور تناول فرمایا۔ یعنی افطار میں دیر نہیں کی ۔ آپ صلی الی الیکم مہمان سے پہلے کھانا نہیں کھایا کرتے تھے مگر افطار کا اپنا تقاضا ہے اس لئے آپ مالی ام ال سلیم نے کچھ تھوڑ اسا اس میں سے لیا اور تناول فرمایا۔ پھر فرمایا : بسم اللہ کر کے کھائیں ۔ بِسْمِ اللہ کر کے کھائیں کا حکم دوسروں کو دیا ہے۔ آپ نے تو بسم اللہ کر کے ہی کھایا تھا چنانچہ ہم نے اس کھانے میں سے اس طرح کھایا کہ ہم اسے دیکھ نہیں رہے تھے۔ بعد ازاں آنحضرت مصلی یاتم نے فرمایا: ا۔ اللہ السلام اے عائشہ ! کیا تمہارے پاس پینے کو کچھ ہے۔ انہوں نے کہا جی حریرہ ہے۔ (جو پتلا حلوہ ہوتا ہے