خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 485
خطبات طاہر جلد 17 485 خطبہ جمعہ 17 جولائی 1998ء بہت ہی ناپسندیدہ ہے بلکہ اس قدر نا پسندیدہ ہے کہ فرمایا وَ اعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا ہم نے کافروں کے لئے بہت رسوا کن عذاب تیار کر لیا ہے۔ ان کے برعکس ایک شکل ایسی بھی ہے جو ہوتے تو بخیل ہیں مگر ریا کاری کی خاطر خرچ کرنے میں بہت بڑھ بڑھ کر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ مرض جو ہے کہ بیاہ شادیوں کے موقع پر ہمارے پنجاب میں خاص طور پر دکھائی دیتا ہے۔ وہ پیسہ ڈالتے ہیں بلا کر ، آوازیں دے کر کہ فلاں صاحب نے اتنا پیسہ ادا کر دیا ہے اس پر ایک بولی بولنے والا کہتا ہے فلاں صاحب نے اتنا پیسہ ادا کر دیا ہے۔ یہ ذلیل حرکت ہے۔ اگر تم نے کسی بچی کی خدمت کرنی ہے، کسی بھائی کو کچھ روپیہ دینا ہے تو مخفی ہاتھ سے دینے کی کوشش کرو، کیوں اس کو دنیا میں ذلیل کرتے ہو لیکن یہ رواج چلا آ رہا ہے اور زمیندار اس پر فخر کرتے ہیں اور پھر لکھنے والے پورا حساب کتاب لکھ کے رکھتے ہیں کہ فلاں نے فلاں وقت فلاں بچی کو یہ دیا تھا اور یہ سنا کر دیا تھا۔ اگلی دفعہ جب یہ موقع آئے اور سنا کر دینے کا وقت آئے تو ہماری بولی اس سے بڑھ کر ہو، اس سے کم نہ ہو۔ غرض یہ کہ یہ سلسلے ریا کاری کے دنیا میں بھی چلتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کی خاطر خرچ کرنے کا موقع آئے تو باجو داس کے کہ بخیل ہوتے ہیں وہ دکھاوے کی خاطر خرچ کرتے ہیں ، بہت بڑھا چڑھا کر بولی بھی دیتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو بولی تو دے دیتے ہیں لیکن پھر اسے پورا نہیں کرتے۔ پس ریا کاری کے دو حصے ہیں۔ ایک وہ جو وعدوں کے وقت ریا کاری سے کام لیتے ہیں اور جب بھی کسی مجلس میں تحریک کی جائے وہ کہہ دیں گے میری طرف سے اتنی بڑی رقم لکھ لو۔ ایسے افراد کا میں نے ایک دفعہ تفصیلی جائزہ لیا کیونکہ مجھے شک تھا کہ ریا کار پھر جب ادائیگی کا وقت آتا ہے تو چونکہ مخفی ہاتھ سے ادائیگی ہوتی ہے وہ ادائیگی سے محروم رہ جاتا ہے ۔ اور میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اکثر لوگ جن میں میں نے ریا کاری کی علامتیں پائی تھیں وہ ادائیگی کے وقت بالکل غائب تھے۔ بہت بڑی بڑی رقمیں انہوں نے خدا کی راہ میں لکھوائی ہوئی تھیں اور جب ادائیگی کا وقت آیا تو صفر تھی۔ چنانچہ میں نے ان کے متعلق ہدایت جاری کر دی کہ ان سے کبھی بھی کوئی چندہ وصول نہ کیا جائے کیونکہ جو بظاہر خدا کی خاطر دیتے ہیں ان کی بولی ربا ان کی بولی ریا کاری ہے اور وعدہ لکھواتے اور وعدہ لکھواتے وقت جانتے ہیں کہ ان کو ہر گز توفیق نہیں ملے گی کہ یہ رقم ادا کر سکیں تو یہ دھو کے باز ہیں ان سے ہرگز آئند ہرگز آئندہ کوئی چندہ