خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 455 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 455

خطبات طاہر جلد 17 455 خطبہ جمعہ 3 جولائی 1998ء اپنے بچوں سے عزت کے ساتھ پیش آؤ اور ان کی اچھی تربیت کرو۔“ (سنن ابن ماجه ، ابواب الأدب، باب بر الوالد و الاحسان الى البنات ۔۔۔۔حدیث نمبر : 3671) بچوں کے ساتھ عزت سے پیش آنا بھی ایک لازمی امر ہے محض حکماً ان سے وہ کام کروانا جو آپ کے نزدیک ان کی دُنیا کے لئے بہتر ہیں یہ درست نہیں ہے۔ بہت سے ایسے ماں باپ ہیں جو بچوں کے لئے سب کچھ کرتے ہیں لیکن ڈانٹتے اس وقت ہیں جب وہ دُنیا سے روگردانی کر رہے ہوں۔ جب دین سے روگردانی کریں تو ہلکے منہ سے ان کو روکتے ہیں ۔ آنحضرت صل الله السلام فرماتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ عزت سے پیش آؤ یعنی ان کی اصلاح کرنی ہو تو نرمی اور پیار سے گفتگو کرو اور اچھی تربیت کرو اس سے ال اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔ ایک ا ، اور حدیث ہے حضرت ایوب بن موسیٰ کی ۔ تہ ابواب البر سے لی گئی ہے۔ حضرت ایوب اپنے والد اور پھر اپنے دادا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الا الہ سلم نے فرمایا : اچھی تربیت سے بڑھ کر کوئی بہترین تحفہ نہیں جو باپ اپنی اولا دکو دے سکتا ہے۔“ ترمذی (جامع الترمذی ابواب البر والصلة، باب ما جاء في أدب الولد ، حدیث نمبر : 1952) اچھی تربیت کرے گا تو یہ سب سے اعلیٰ تحفہ ہے جو دے سکتا ہے۔ نہ کہ اموال جمع کر کے ان کو یقین دلانا کہ میرے مرنے کے بعد تمہیں بہت دولت مل جائے گی ۔ اس کو تحفوں میں شمار ہی نہیں فرما یا رسول اللہ صلی الا السلام نے فرما یا بہترین تحفہ ہے جو باپ اپنی اولاد کو دے سکتا ہے کہ اس کی اچھی تربیت کرے۔ اب ملفوظات میں سے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند اقتباسات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ فرمایا: ان کی پرورش (یعنی بچوں کی پرورش ) محض رحم کے لحاظ سے کرے نہ کہ جانشین بنانے کے واسطے۔“ رحم کے حوالے سے کرے، اس سے کیا مراد ہے؟ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيرًا - (بنی اسرائیل: 25) اے میرے اللہ ! میرے ماں باپ پر رحم فرما جس طرح ! فرما انہوں نے میری تربیت کی تھی بچپن میں تو یہ رحم تربیت کا مرکزی حصہ ہونا چاہئے ۔ اگر کوئی شخص اپنے بچوں پر رحم کرے گا تو لازمی اس رحم کے نتیجہ میں اسے اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ کردار سکھائے گا۔