خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 444
خطبات طاہر جلد 17 444 خطبہ جمعہ 26 جون 1998ء سچا ہے رہے ہوں اور ان کے نفس گواہ ہیں ان کے خلاف اور ان کے نفس کی گواہی ان کے خلاف لکھی جا چکی ہے۔ مرنے کے بعد ان کی جلد میں گواہ ہوں گی اور آنحضرت صلی الله السلام نے جو تفصیل سے نقشہ کھینچا۔ کہ کس طرح وہ گواہی دیں گے قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں اس کو آپ پڑھ لیں تو یہ ایسی قطعی بات ہے جس میں ایک ذرہ بھر بھی شک نہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ ضرورت ہے کہ کچھ نظام جماعت کو حرکت میں لانے کا نظام قائم کیا جائے ۔ اب تک میرا جائزہ یہ ہے کہ آپ کی جماعت کے جو محصلین ہیں، اور چندہ اکر ، اور چندہ اکٹھا کرنے والے ہیں ان کا ایک سرسری ر: سرسری رجحان ہے جو جو شخص جو لکھوا دے وہ کہتے ہیں پورا ادا کر رہا ہے۔ ایسی بعض فہرستیں میرے سامنے آئیں جن میں یہ درج تھا کہ یہ صاحب بھی بالکل پورا ادا کر رہے ہیں ، وہ صاحب بھی پورا ادا کر رہے ہیں اور جب میں نے کہا مجھے بتاؤ تو سہی کہ کتنا ادا کر رہے ہیں اُس وقت بات کھلی کہ جن کو مقامی جماعت سمجھ رہی تھی کہ پورا ادا کر رہے ہیں وہ، سوال ہی نہیں پورے کا، بعض صورتوں میں سووال (100) حصہ بھی نہیں تھا۔ جب اس سلسلہ میں چھان بین شروع کی تو بہت سے آدمی میرے سامنے ایسے آئے ہیں جن کے متعلق اور باتوں کے علاوہ میں نے ایک قطعی فیصلہ کر لیا ہے جو پہلے بھی میں ہمیشہ کیا کرتا تھا مگر جماعت مجھے اگر ایسے لوگوں سے غافل رکھے تو پھر میرا قصور نہیں ہے۔ میں ہمیشہ اصرار کرتا رہا ہوں کہ میں کبھی کسی سے کوئی ذاتی ہدیہ نہیں لوں گا جب تک وہ جماعت کا حق پورا ادا نہیں کرتا اور جماعت کی غلط اطلاعوں کی وجہ سے بعض ایسے لوگوں کا ذاتی ہدیہ لینے پر میں بڑی دیر سے مجبور چلا آ رہا تھا، مجھے علم بھی نہیں تھا۔ چنانچہ میں نے چھان بین کی تو پتا چلا کہ ہرگز ان کے کسی ہدیہ کی مجھے ضرورت نہ تھی ، نہ ہے بلکہ میرے دل میں سخت کراہت پیدا ہو رہی ہے کہ کیوں لاعلمی میں وہ ہدیہ لیتا رہا ہوں ۔ جب تک جماعت سے ایسے لوگوں کے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے ان کا کوئی ہدیہ میرے لئے کوئی محبت پیدا نہیں کر سکتا سوائے بوجھ کے، سوائے تکلیف کے میرے دل میں ان کا ہدیہ کوئی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔ تو جماعت سے ٹھیک ہو جاؤ ورنہ اب میں امیر صاحب کو یہ ہدایت دینے والا ہوں کہ ایسے لوگوں کی پوری چھان بین کریں اور محض سیکرٹری مال کی اس بات پر نہ جائیں کہ یہ سب کچھ دے رہے ہیں دیانتداری سے ایسے احمدی پروفیشنل مقرر کریں جن کے چندے کے متعلق ہمیں سو فیصد یقین ہے کہ وہ پورا ہے اس کے حساب سے جائزہ لیں اور ان کے دس دس بارہ بارہ سال کے چندے اگر ان کو واپس کرنے پڑیں تو کر دئے جائیں ۔ جو میری گارنٹی ہے وہ یہ ہے