خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 442
خطبات طاہر جلد 17 442 خطبہ جمعہ 26 جون 1998ء ساری عمر کی کمائیاں ، ساری عمر کی محنتیں ، ساری عمر کی اللہ کی عطائیں ناشکری میں اس اس طرح ضائع کر دیں کہ یہ زندگی بھی ہاتھ سے چلی جائے اور اگلی دنیا بھی ہاتھ سے جائے ، یہ کون سی عقل کی بات ہے۔ پس آپ کو سمجھانے کی ضرورت تو ہے اور میں سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں مگر عقل ان کو ہی آئے گی جن کو خدا عقل دینا چاہے۔ میرے لئے ناممکن ہے کہ گھوٹ کر آپ کو عقل پلا سکوں کیونکہ رسول اللہ صلی علم الکلام کے لئے بھی یہ ناممکن تھا ۔ آپ سال یا اسلم کو اللہ نے یہ حکم دیا کہ تیرے سپر دکھول کھول کر پہنچانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ تو پہنچاتا رہ۔ جو بھی اللہ کا حکم ہے اسے آگے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کر۔ اگر وہ نہیں سمجھتے تو تیرا قصور نہیں تو نے اپنی طرف سے ہر کوشش کر لی اس کے بعد پھر ان کا معاملہ خدا پر چھوڑ دے۔ پس میرا ہر گز یہ دعویٰ نہیں نعوذ بالله من ذلك كہ رسول اللہ صلی السلام کو جو مقام خدا نے عطا نہیں فرمایا وہ مجھے عطا فرمایا ، ہرگز میرے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی مگر بلاغ کا جو مضمون میں سمجھتا ہوں رسول اللہ صلی الم سے، یہ ہے کہ اتنا سمجھانا کہ اس کے بعد سمجھانے کی کوئی حد باقی نہ رہے۔ آنحضور صلی السلام کے آخری خطبہ میں یہی پیغام مرکزی حیثیت رکھتا تھا ۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی الا السلام جب اس دنیا سے رخصت ہوئے ، رخصت ہونے کا وقت تھا ایک ، آپ صلی الا کہ ہم نے لا ز ما رخصت ہونا تھا لیکن یہ سوچیں کہ آپ صلی السلام کو خیال کیا تھا اس وقت ۔ کون سا خیال آپ صلی السلام کے دل پر قبضہ جمائے ہوئے تھا ؟ وہ یہ تھا کہ میں نے پیغام پہنچادیا جیسا کہ خدا نے مجھے کہا تھا کیا میں نے واقعی پہنچا دیا ہے۔ تو اپنے وصال سے پہلے تمام حاضرین سے گواہی لی ہے تم گواہی دو کہ جو کچھ خدا نے مجھے تمہیں پہنچانے کے لئے امانت سپرد کی تھی میں نے تم تک پہنچادی۔ تمام مجمع اس سے بڑا مجمع کبھی پہلے نہیں اکٹھا ہوا۔ تمام مجمع نے بلند آواز سے گواہی دی کہ اے اللہ کے رسول صلی ا لی لی تو نے پیغام پہنچا دیا۔ (صحیح البخاری کتاب الحج، باب الخطبة أيام منی۔ ۔ ۔ حدیث نمبر : 1739) یہ آپ صلی الله السلام کا جذبہ تھا پیغام پہنچانے کا۔ اس لئے محض اس طرح پیغام پہنچانا کہ میں نے پہنچادیا یہ کافی نہیں ہے۔ پہنچاتے چلے جانا یہاں تک کہ زندگی کا آخری خیال یہ ہو کہ میں نے پہنچا دیا ہے کہ نہیں پہنچادیا یہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ صل الا السلام کا اسوہ حسنہ تھا۔ اس لئے میں بھی صرف انہی معنوں میں آپ تک بار بار پیغام پہنچاتا ہوں کیونکہ رسول اللہ صلی السلام کی غلامی کے بعد اس کے سوا میرا کوئی اور فرض ہی نہیں رہتا کہ