خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 406 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 406

خطبات طاہر جلد 17 406 خطبہ جمعہ 12 جون 1998ء ہوں یا اخباروں کے مالک ہوں ان سے ملیں تو ہرگز بعید نہیں کہ وہ سچی بات کر سکتے ہوں یا کریں۔ مثلاً نوائے وقت ہے اس کے حمید نظامی صاحب کے بیٹے اس وقت نوائے وقت پر قابض ہیں۔ اس وقت کے نوائے وقت کا کردار اتنا مکروہ ہے کہ انسان تعجب کرتا ہے کہ حمید نظامی کا بیٹا اس حد تک گر چکا ہوگا کہ اپنے باپ کے مسلک سے بالکل مختلف مسلک اختیار کرلے گا، حالانکہ نوائے وقت حمید نظامی کا بنایا ہوا اخبار ہے، حمید نظامی کی صحافت کی عظمت ہے جس نے نوائے وقت کو ایک اہمیت بخشی ہے۔ ء میں 24 اگست کو حمید نظامی نے کیا لکھا۔ نوائے وقت 24 اگست 1948ء کا آپ دیکھیں ۔ وہ لکھتے ہیں : 24 ہیں۔ 1948ء میں ہندوستان نے کشمیر کا قضیہ یو این او میں پیش کر دیا۔ چوہدری صاحب پھر نیو یارک پہنچ گئے ۔ ۔ 4 فروری 1948ء کو آپ نے یو این او میں دنیا بھر کے چوٹی کے کے دماغوں دماغ کے سامنے اپنے ملک وملت کی وکالت کرتے ہوئے مسلسل ساڑھے پانچ گھنٹے تقریر کی ۔ ظفر اللہ خان کی تقریر ٹھوس دلائل اور حقائق سے لبریز تھی۔ کشمیر کمیشن کا تقرر ظفر اللہ کا ایک ایسا کارنامہ ہے جسے مسلمان کبھی نہ بھول سکیں گے ۔“ 66 کوئی کہہ سکتا ہے کہ انہوں نے مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے۔ مسلمانوں نے تو بھلا دیا ہے مگر مسلمانوں نے کب بھلایا ہے۔ جو بھلانے والے ہیں ان کا نام مسلمان ہے ان کا کردار مسلمان نہیں ہے۔ اگر حقیقت میں ان کا کردار بھی مسلمان ہوتا ، ان میں اسلامی جذبہ تشکر کا ایک معمولی سا جذ بہ بھی ہوتا تو نا ممکن تھا کہ یہ ان واقعات کو بھلا سکتے۔ اُس زمانہ کے اخبارات میں کچھ شرافت موجود تھی، کچھ باتیں وہ جرات سے کہہ دیا کرتے تھے۔ جو شرافت اب ان اخبارات میں جو آج کل چل رہے ہیں نام کو بھی نہیں رہی ۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے عرض کیا ہے کہ جماعت کو جد و جہد کر کے اُن لوگوں کو جو اخبارات کے مالک ہیں یا ایڈیٹر ہیں بار بار ضرور ملنا چاہئے کیونکہ میرا تجربہ ہے کہ بعض دفعہ دیکھنے میں لگتا ہے کہ بہت مخالف اور متعصب ہے، جب ملا جائے اور بات سمجھائی جائے تو اندر کا انسان جاگ اٹھتا ہے۔ اس لئے نوائے وقت ہو یا دوسرے اخبارات ہوں ان کے سربراہوں سے جن کے ہاتھ میں ان کی کلیدیں ہیں اور ان کے مدیروں سے ضرور ملنا چاہئے اور پوری کوشش کرنی چاہئے کہ ان کے اندر کا ضمیر جاگ اٹھے ۔