خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 397
خطبات طاہر جلد 17 397 خطبہ جمعہ 12 جون 1998ء کشمیر موومنٹ : 1930ء 31ء،32ء، 33ء،34 ء تک ، حضرت مصلح موعود نے کشمیر موومنٹ کا آغاز کیا اور اس کے متعلق بکثرت مضامین شائع کئے۔ تمام ہندوستان کے مسلمانوں کی رائے عامہ کو جگایا اور انہیں سمجھایا کہ تم کشمیر کے معاملات اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے معاملات سے بالکل غافل پڑے ہو، اٹھو اور کسی جدو جہد کا آغاز کرو ۔ جب یہ آغاز ہوا تو علامہ اقبال ہی نے سب سے پہلا نام مرزا بشیر الدین محمود احمد کا پیش کیا۔ اب یہ بھی تاریخ کے وہ پہلو ہیں جن کے متعلق مستند حوالوں سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ جماعت احمد یہ سے بڑھ کر کشمیر کی آزادی کی مہم چلانے والی اور کوئی جماعت نہیں تھی۔ جہاں تک فلسطین کا تعلق ہے فلسطین کے متعلق سب سے پہلا تنبیہی مضمون جو شائع کیا ہے وہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شائع فرمایا ہے۔ آپ ہی نے فلسطینیوں کو متنبہ کیا کہ اپنی زمینیں یہودیوں کے ہاتھوں بیچنے سے باز آجاؤ۔ اگر تم نے یہ زمینیں بیچیں تو اب تو ان کو وہاں کھڑے ہونے کی جگہ نہیں ہے، ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ تمہاری زمینیں خرید کر یہ اپنے کھڑے ہونے کی جگہ بنائیں گے اور پھر اسے پھیلا دیں گے اور رفتہ رفتہ ان کا دائرہ اثر تمہارے سارے مسلمان ممالک جو عرب میں موجود ہیں ان سب پر محیط ہو جائے گا اور یہ بہت ہی خطرناک حرکت ہے جو تم کر رہے ہو اس سے تو بہ کرو۔ ( تاریخ احمدیت جلد 13 صفحہ : 122) اس موقع پر اس مضمون کی تائید میں عراق اور فلسطین ! اور مستین اور دوسرے اخبارات میں سے بہت سے دانشور ایسے تھے جن کے ایڈیٹر، جنہوں نے کھل کر تائیدی مضامین لکھے، انہوں نے کہا اگر کوئی صحیح مشورہ دے رہا ہے تو اس وقت جماعت احمدیہ کا سر براہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ہی ہے جو صحیح مشورہ دے رہا ہے۔ آپ نے ان کے جذبات کو ابھارنے کے لئے بڑی پر زور تحریریں لکھیں لیکن افسوس ہے کہ ان دو لوگوں نے ان پر کان نہ دھرے۔ ایک تحریر کا نمونہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ آپ نے لکھا: سوال فلسطین کا نہیں ، سوال مدینہ کا ہے، سوال یروشلم کا نہیں ، سوال خود مکہ مکرمہ کا ہے۔ سوال زید اور بکر کا نہیں ، سوال محمد رسول اللہ صلی السلام کی عزت کا ہے۔ دشمن با وجود اپنی مخالفتوں کے اسلام کے مقابل پر اکٹھا ہو گیا ہے کیا مسلمان باوجود ہزاروں اتحاد کی وجوہات کے اس موقع پر اکٹھا نہیں ہو گا ۔“ 66 (الكفر ملة واحدة ، انوار العلوم جلد 19، صفحہ:572)